Our Blog is all about Interesting Life Issues, Health Tips, Latest News, Interesting Facts, Viral issues, Pakistani Hot Issues, Pakistani Politics In Urdu Language
24 May 2017
عورت پاؤں کی جوتی ہے
عورت پاؤں کی جوتی ہے
بیٹی !!! میری گاڑی کی چابی تو لانا ۔۔۔
جی بابا ۔۔۔۔ ابھی لائی ۔۔
بیٹی : چائے بنا کر لاؤ مجھے باہر جانا ہے ۔۔
جی ابھی لائی بابا ۔۔۔۔
بہو۔۔۔ او بہو ( سسر نے آواز دی ) میری دوائیاں کہاں ہیں ؟
جی وہ آپ کے روم میں رکھ دی تھیں اور پانی کا گلاس بھی ۔۔ ابھی آپکے لئے کھانا لگا رہی ہوں ۔۔۔
امی جی ۔۔۔۔ امی جی ( بیٹے نے آواز دی )
میرے شوز کہاں ہیں ؟؟ مل نہیں رہے ۔۔ مجھ کھیلنے جانا ہے ۔ 



بیٹا وہیں تو رکھے تھے ۔ اچھا بیٹھ، میں لاتی ہوں ۔۔
امی جی ۔۔۔۔ نیا والا جوڑا کہاں ہے میرا !! الماری میں نہیں ہے ۔۔
بیٹا وہ صبح دھویا تھا ۔۔ اچھا چل سوکھ گیا ہوگا تو میں استری کر کے لاتی ہوں ۔۔۔
بیگم ۔۔۔۔ بیگم ( میاں نے آواز دی ) جلدی سے چائے کا انتظام کرو میرے کچھ دوست آرہے ہیں اور ساتھ میں کچھ کھانے کیلئے بھی بنا دینا ۔۔۔
اور سنو میری لال والی شرٹ بھی ریڈی کر دو ۔۔
اور۔۔۔۔ اور سنو وہ جو امپوٹڈ والی پرفیوم آئی تھی میرے لیے باہر سے وہ بھی پکڑا دو مجھے ۔۔ ( صوفے پر بیٹھے بیٹھے آڈر جاری کیا )
جی ابھی لائی ۔۔۔۔
سمینہ ۔۔۔۔ سمینہ ( مالکن نے آواز دی )
برتن دھو لیے تو صحن میں پوچھا مار دیو اچھے سے۔۔۔ بازار سے سبزی لانا مت بھولنا اور چھوٹو کے کپڑے درزی کو دئیے تھے واپسی پر لیتے آنا ۔۔۔
مِس جی ۔۔۔۔ ( کلاس میں بیٹھے بچے نے ٹیچر کو آواز دی )
وہ پہلا والا لفظ کیا لکھا ہے ؟ اور میم یہ سوال سمجھ نہیں آیا ۔۔۔ پھر سے سمجھائیں ۔۔
اچھا ابھی سمجھاتی ہوں۔۔۔
یوں ہی صبح سے خدمتیں شروع ہوتیں ہیں اور رات گئے تک جاری رہتی ہیں ۔۔۔ ابھی تھکاوٹ کی وجہ سے کمر سیدھی نہیں ہو پاتی کے پھر صبح کا الارم بج اٹھتا ہے وہ بیچاری عورت بیل کیطرح پھر سے جی ابھی لائی ۔۔ جی جو حکم۔۔۔ جی کہنے کیلئے تیار کھڑی نظر آتی ہے ۔۔
اوپر بیان کیے گئے تمام کردار عورت ہی کے کئی روپ ہیں جسے بدقسمتی سے نظرانداز کر دیا جاتا ہے صرف اس وجہ سے کہ وہ کمزور ہے۔۔۔۔ اپنا حق لے نہیں سکتی۔۔۔ مانگ نہیں سکتی ۔۔۔
صبح اٹھتے ہی ناشتہ تیار ملنا۔۔۔ کپڑے استری ملنے۔۔۔ چائے بنی ملنی۔۔۔ جوتے پالش ملنے۔۔۔۔ گھر صاف ستھرا نظر آنا یہ سب مشین کا کام تو نہیں۔۔۔ نا ہی آسمانی فرشتے میرے یا آپ کے گھر آکر یہ سب کچھ کر جاتے ہیں ۔۔۔ بلکہ یہ سب ایک جیتے جاگتے انسان کا کیا دھرا ہے مگر بدلے میں اسے کیا دیا جاتا ہے !!!! کچھ نہیں سوائے طعنوں کے۔
امی جی ۔۔۔۔ نیا والا جوڑا کہاں ہے میرا !! الماری میں نہیں ہے ۔۔
بیٹا وہ صبح دھویا تھا ۔۔ اچھا چل سوکھ گیا ہوگا تو میں استری کر کے لاتی ہوں ۔۔۔
بیگم ۔۔۔۔ بیگم ( میاں نے آواز دی ) جلدی سے چائے کا انتظام کرو میرے کچھ دوست آرہے ہیں اور ساتھ میں کچھ کھانے کیلئے بھی بنا دینا ۔۔۔
اور سنو میری لال والی شرٹ بھی ریڈی کر دو ۔۔
اور۔۔۔۔ اور سنو وہ جو امپوٹڈ والی پرفیوم آئی تھی میرے لیے باہر سے وہ بھی پکڑا دو مجھے ۔۔ ( صوفے پر بیٹھے بیٹھے آڈر جاری کیا )
جی ابھی لائی ۔۔۔۔
سمینہ ۔۔۔۔ سمینہ ( مالکن نے آواز دی )
برتن دھو لیے تو صحن میں پوچھا مار دیو اچھے سے۔۔۔ بازار سے سبزی لانا مت بھولنا اور چھوٹو کے کپڑے درزی کو دئیے تھے واپسی پر لیتے آنا ۔۔۔
مِس جی ۔۔۔۔ ( کلاس میں بیٹھے بچے نے ٹیچر کو آواز دی )
وہ پہلا والا لفظ کیا لکھا ہے ؟ اور میم یہ سوال سمجھ نہیں آیا ۔۔۔ پھر سے سمجھائیں ۔۔
اچھا ابھی سمجھاتی ہوں۔۔۔
یوں ہی صبح سے خدمتیں شروع ہوتیں ہیں اور رات گئے تک جاری رہتی ہیں ۔۔۔ ابھی تھکاوٹ کی وجہ سے کمر سیدھی نہیں ہو پاتی کے پھر صبح کا الارم بج اٹھتا ہے وہ بیچاری عورت بیل کیطرح پھر سے جی ابھی لائی ۔۔ جی جو حکم۔۔۔ جی کہنے کیلئے تیار کھڑی نظر آتی ہے ۔۔
اوپر بیان کیے گئے تمام کردار عورت ہی کے کئی روپ ہیں جسے بدقسمتی سے نظرانداز کر دیا جاتا ہے صرف اس وجہ سے کہ وہ کمزور ہے۔۔۔۔ اپنا حق لے نہیں سکتی۔۔۔ مانگ نہیں سکتی ۔۔۔
صبح اٹھتے ہی ناشتہ تیار ملنا۔۔۔ کپڑے استری ملنے۔۔۔ چائے بنی ملنی۔۔۔ جوتے پالش ملنے۔۔۔۔ گھر صاف ستھرا نظر آنا یہ سب مشین کا کام تو نہیں۔۔۔ نا ہی آسمانی فرشتے میرے یا آپ کے گھر آکر یہ سب کچھ کر جاتے ہیں ۔۔۔ بلکہ یہ سب ایک جیتے جاگتے انسان کا کیا دھرا ہے مگر بدلے میں اسے کیا دیا جاتا ہے !!!! کچھ نہیں سوائے طعنوں کے۔
23 May 2017
کاروبار اور کامیابی
کاروبار اور کامیابی
ممتاز سماجی، روحانی شخصیت اور پنجاب بناسپتی کے ڈائریکٹر مارکیٹنگ ملک خالد یعقوب کاروبار اور کامیابی کے حوالے سے اپنا اظہارخیال کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ 1984ء میں لاہور سے سیل مین کی جاب سے اپنی پریکٹیکل زندگی کا آغاز کیا اور 1990ء میں جاب چھوڑ کر اپنے کاروبار کا آغاز کیا۔ جن دنوں میں جاب کر رہا تھا تو ایک دن میرا ایک دوست مجھ سے ملنے آیا اور مجھ سےسوال کیا ”خالد تو نے اپنا نصیب کتنے میں بیچا ہے؟“ یہ سن کر میں حیران ہوا اور ان کا چہرہ دیکھنے لگا اور کہا کہ ”میں آپ کا مطلب نہیں سمجھا، آپ کیا کہہ رہےہیں“ وہ کہنے لگے کہ ”آپ نے مالک کو دس ہزار کے عوض اپنا نصیب بیچ دیا ہے اور اب آپ کا مالک اس نصیب سے لاکھوں روپیہ کمائے گا، کیا کبھی اس کے بارے میں سوچا؟“ میرے دوست کا یہ کہنا تھا کہ میں نےدل میں تہیہ کر لیا کہ ان شاءاللہ مناسب وقت پر اپنا کاروبار شروع کروں گا۔ اگر آدمی اپنی آنکھیں اور کان کھلے رکھے اور اللہ تعالیٰ پر بھروسہ رکھے تو تبدیلی خودبخود آنا شروع ہو جاتی ہے۔ ہماری بد قسمتی یہ ہے کہ آج کسی بھی تعلیمی ادارے میں ایم بی اے کی کلاس میں چلے جائیں اور وہاں طالب علموں سے پوچھیں کہ ایم بی اے کرنے کے بعد آپ کیا کرنا چاہتے ہیں تو نوے فیصد سے زائد طالب علموں کا یہ جواب ہوگا کہ ہم نےجاب کرنی ہے۔ جب نیت ہی جاب والی ہوگی تو کاروبار کرنا کیسے ممکن ہوگا اور جو لوگ ملازمت کے پیشے سے وابستہ ہوتے ہیں، ان میں رسک لینے کا حوصلہ نہیں ہوتا جبکہ رسک کے بغیر کاروبار نہیں ہوتا۔
ہم نے خود سے ذہن میں بٹھا رکھا ہے کہ فلاں کاروبار اچھا ہے فلاں برا ہے، یہ کرنا چاہیے یہ نہیں کرنا چاہیے۔ کاروبار ایک ہوتا ہے لیکن اس میں ایک شخص بھوکا ہوتا ہے جبکہ دوسرا ارب پتی ہوتا ہے. اصل بات یہ ہوتی ہے کہ کام کرنے کا طریقہ کیا ہے۔ ہمارے ہاں کاروبار میں ناکامی کی ایک وجہ یہ ہے کہ جو کاروبار ایک خاندان میں نسل در نسل چلا آ رہا ہوتا ہے، اس کو چھوڑ دیا جاتا ہے، اور اس کی جگہ نیا کاروبارشروع کر دیا جاتا ہے۔ جو خاندان ایک کاروبار کر رہا ہو، فرض کریں کہ اس خاندان کا ایک بچہ تعلیم حاصل کر رہا ہو تو نہ چاہتے ہوئے بھی اسے اپنے کاروبار کی پچاس فیصد سمجھ آ جاتی ہے، اب جس کو پہلے ہی کاروبار کی پچاس فیصد سمجھ ہو، اسے اس کاروبار میں کامیاب ہونا آسان ہوتا ہے۔ آج ہمارے نوجوانوں میں جو مایوسی اور ڈپریشن ہے، اس کی دو وجوہات ہیں، پچاس فیصد نوجوانوں کے ذہنوں میں ذات پات کے مسائل چل رہے ہیں، ان کے دماغوں میں ایک ہی سوچ ہے کہ میں فلاں کا بیٹا ہوں، اس لیے ترقی نہیں کر سکتا، میرے والد کا فلاں پیشہ ہے، جو میری ترقی کی راہ میں رکاوٹ ہے، حالانکہ اللہ کے رسولﷺ نے اپنے ہاتھ سے کام کرنے والے کو اللہ تعالیٰ کا حبیب کہا ہے۔ پچاس فیصد نوجوان ایسے ہیں جن کے ذہنوں میں امیر اور غریب کی تفریق پائی جاتی ہے، ان کے دماغوں میں بس یہی چل رہا ہوتا ہے کہ فلاں اس وجہ سے آگے چلا گیا کہ اس کا باپ امیر ہے، میں تو غریب کا بیٹا ہوں، اس لیے آگے نہیں جا سکا حالانکہ اگر دیکھا جائے تو اس وقت دنیا میں جتنے امیر لوگ ہیں، ان میں سے اسی فیصد کا تعلق متوسط یاغریب طبقے سے ہے۔ امیر لوگوں کی اولاد کمفرٹ زون رہتی ہے جس کی وجہ سے ان میں محنت کرنے کا جذبہ پیدا نہیں ہوتا جبکہ محرومی خواب بناتی ہے اور محنت کرنے پر مجبور کرتی ہے۔ اللہ تعالیٰ کے ہاں سب برابر ہیں،u امیر کا بچہ بھی اسی پروسس سے پیدا ہوتا ہے، جس پروسس سے غریب کا بچہ پیدا ہوتا ہے، اللہ تعالیٰ سب کو یکساں مواقع فراہم کرتا ہے، جو امتحان ہوتے ہیں وہ تو درجات بڑھانے کے لیےu ہوتے ہیں۔
ناکامی تکرار کرنے سے بڑھتی ہے، خاموشی اختیار کرنے سے کم ہوتی ہے، صبر کرنے سے ختم ہوتی ہے، اور شکر کرنے سے کامیابی میں بدل جاتی ہے جس کسی کو اپنے کام میں کسی قسم کی مشکلات اور چیلنجز کا سامنا ہو تو اسے چاہیے کہ وہ اس حدیث قدسی کے مفہوم کو سامنے رکھے کہ ”ساری دنیا مل کر نفع پہنچانا چاہے لیکن رب نہ چاہے تو نفع نہیں ہو سکتا اور ساری دنیا مل کر نقصان پہچانا چاہے لیکن رب نفع پہچانا چاہے تو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتا۔“ کوئی بھی والدین اپنی اولاد کو ناکام نہیں دیکھنا چاہتے اور وہ ذات ِباری تعالیٰ جو ستر ماؤں سے زیادہ پیار کرتا ہے، وہ کیسے چاہے گا کہ میرا بندہ ناکام ہو، اس لیے بندے کو ہمیشہ اللہ تعالیٰ سے اچھا گما ن رکھنا چاہیے، اسے سوچنا چاہیے کہ اگر میرے حالات اچھے نہیں ہیں تو اس میں اللہ تعالیٰ کی حکمت ہوگی۔ اگر غور کیا جائے، کئی حالات و واقعات ایسے ہوتے ہیں کہ جب بندہ ان سےگزر رہا ہوتا ہے تو شدید کرب میں ہوتا ہے اور اس وقت اس کی ایک ہی خواہش ہوتی ہے کہ جتنی جلد ممکن ہو سکے، ان سے چھٹکارہ مل جائے لیکن وہی حالات اس کی کامیابی کے لیے سیڑھی کا کردار ادا کرتے ہیں، بعد میں بندہ جب ان کو دیکھتا ہے تو سوچتا ہے کہ اگر وہ حالات پیش نہ آتے تو آج میں اس مقام تک نہ پہنچ پاتا۔ جو بندہ پریشانیوں کو سر پر اٹھاتا ہے، وہ اس کے نیچے دب جاتا ہے اور جو پریشانیوں کو پاؤں کے نیچے رکھتا ہے، اس کا قد پہلے سے بھی بڑا ہوجاتا ہے۔
جو شخص اچھا بزنس مین، اچھا ٹیچر، اچھا مینجر یا اچھا والد بننا چاہتا ہے، اسے سب سے پہلے اچھا انسان بننا پڑے گا۔ کسی بھی شعبےمیں کامیاب ہونے کے لیے سب سے پہلے اچھا انسان بننا بہت ضروری ہے، یہی کاروبار میں کامیابی کی پہلی سیڑھی ہے۔ آج ہم نے یقین بنا لیا ہے کہ جھوٹ کے بغیر کاروبار نہیں ہو سکتا لیکن حقیقت میں ایسا نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ جس نے ہمیں پیدا کیا ہے، اس نے بتایا ہے کہ دنیا میں کیسے رہنا ہے اور صرف وہی کچھ کرنا ہے، جس سے دنیا اور آخرت دونوں میں کامیابی حاصل ہو۔ اللہ تعالیٰ نے ہم پر بڑا احسان یہ کیا کہ اس نے حضوراکرم ﷺ کو ہماری ہدایت کے لیے بھیجا، آج ہمارے پاس قرآنِ پاک ہے، آپ ﷺ کی سیرت طبیہ ہے جن سے استفادہ کیا جاسکتا ہے مگر بدقسمتی یہ ہے کہ ہماری اکثریت ایسے لوگوں پر مشتمل ہے جنہوں نے کبھی ترجمے کے ساتھ قرآنِ مجید نہیں پڑھا، سیرتِ طیبہ کا مطالعہ نہیں کیا۔ لوگوں کی بڑی تعداد ایسی ہے جو جذباتی حد تک تو آپﷺ سے عشق کرتی ہے لیکن انہیں آپﷺ کے شب و روز کا اندازہ ہی نہیں ہے۔ سب سے بہترین طریقہ حضوراکرم ﷺ کی اطاعت ہے، سوفیصد کامیابی کا راستہ حضوراکرم ﷺ کا بتایا ہوا راستہ ہے۔ قرآن ِپاک کو سمجھ کر پڑھنا چاہیے، یہ ہرانسان کے لیے کھلا خط ہے۔ دنیا و آخرت کی ترقی کے لیے اللہ، اس کی کتاب اور اس کے رسولﷺ کے علاوہ اور کوئی راستہ نہیں ہے۔
کسی بھی فیلڈ میں کامیابی حاصل کرنا بہت آسان ہوتا ہے لیکن ہم خود ہی اس کو مشکل بناتے ہیں۔ بچپن میں جب بندہ سائیکل چلانا سیکھتا ہے تو کئی دفعہ گرتا ہے لیکن اس کے باوجود سائیکل چلانا سیکھ جاتا ہے، اگر اس وقت اسے پوچھا جائے کہ کیا سائیکل چلانا آسان ہے یا مشکل ہے تو وہ جواب دےگا کہ بہت آسان ہے، بالکل ایسے ہی کوئی بھی کاروبار جب شروع کیا جاتا ہے تو اس میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے لیکن پھر آسانی پیدا ہوجاتی ہے۔ جن لوگوں کو اللہ تعالیٰ پر اور اپنے آپ پر یقین ہوتا ہے، وہ سوفیصد کامیاب ہو جاتے ہیں، جن لوگوں کو اللہ تعالیٰ سے اور اپنے سے امید ہوتی ہے، وہ پچاس فیصد کامیاب ہوتے ہیں اور پچاس فیصد ناکام ہوتے ہیں جبکہ جو مایوس ہوتے ہیں اور انھی اپنی کامیابی کا یقین نہیں ہوتا، وہ سوفیصد ناکام ہو جاتے ہیں۔ نپولین ہل بھی اپنی کتاب Think and Grow Rich کے پہلے باب میں یقین کا ذکر کرتا ہے۔ جو لوگ کامیاب ہوتے ہیں، ان کا پیشہ اور مشغلہ ایک ہوتا ہے، اگر کام اور مشغلہ ایک نہ ہو تو پھر محنت مشقت بن جاتی ہے اور بندہ ا نتظار کرتا رہتا ہے کہ کب وقت ختم ہو اور میری جان چھوٹے جب مشغلہ اور کام ایک ہوتا ہے تو وقت گزرنے کا احساس ہی نہیں ہوتا۔ کام اور مشغلے کے ایک ہونے کے علاوہ کاروبار میں تعلیم کا بھی اہم کردار ہوتا ہے۔ تعلیم کے بغیر انسان نابینا ہوتا ہے، تعلیم کے بغیر بندہ نہ تو دین کو سمجھ سکتا ہے اور نہ ہی دنیا کو، جس کے پاس تعلیم بھی ہو اور عمل بھی ہو تو وہ دو دھاری تلوار بن جاتا ہے اور جو شخص محنت کے ساتھ اللہ تعالیٰ پر توکل کرتا ہے، کامیابی اس کے
کاروبار اور کامیابی – سید قاسم علی شاہ
ممتاز سماجی، روحانی شخصیت اور پنجاب بناسپتی کے ڈائریکٹر مارکیٹنگ ملک خالد یعقوب کاروبار اور کامیابی کے حوالے سے اپنا اظہارخیال کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ 1984ء میں لاہور سے سیل مین کی جاب سے اپنی پریکٹیکل زندگی کا آغاز کیا اور 1990ء میں جاب چھوڑ کر اپنے کاروبار کا آغاز کیا۔ جن دنوں میں جاب کر رہا تھا تو ایک دن میرا ایک دوست مجھ سے ملنے آیا اور مجھ سےسوال کیا ”خالد تو نے اپنا نصیب کتنے میں بیچا ہے؟“ یہ سن کر میں حیران ہوا اور ان کا چہرہ دیکھنے لگا اور کہا کہ ”میں آپ کا مطلب نہیں سمجھا، آپ کیا کہہ رہےہیں“ وہ کہنے لگے کہ ”آپ نے مالک کو دس ہزار کے عوض اپنا نصیب بیچ دیا ہے اور اب آپ کا مالک اس نصیب سے لاکھوں روپیہ کمائے گا، کیا کبھی اس کے بارے میں سوچا؟“ میرے دوست کا یہ کہنا تھا کہ میں نےدل میں تہیہ کر لیا کہ ان شاءاللہ مناسب وقت پر اپنا کاروبار شروع کروں گا۔ اگر آدمی اپنی آنکھیں اور کان کھلے رکھے اور اللہ تعالیٰ پر بھروسہ رکھے تو تبدیلی خودبخود آنا شروع ہو جاتی ہے۔ ہماری بد قسمتی یہ ہے کہ آج کسی بھی تعلیمی ادارے میں ایم بی اے کی کلاس میں چلے جائیں اور وہاں طالب علموں سے پوچھیں کہ ایم بی اے کرنے کے بعد آپ کیا کرنا چاہتے ہیں تو نوے فیصد سے زائد طالب علموں کا یہ جواب ہوگا کہ ہم نےجاب کرنی ہے۔ جب نیت ہی جاب والی ہوگی تو کاروبار کرنا کیسے ممکن ہوگا اور جو لوگ ملازمت کے پیشے سے وابستہ ہوتے ہیں، ان میں رسک لینے کا حوصلہ نہیں ہوتا جبکہ رسک کے بغیر کاروبار نہیں ہوتا۔
ہم نے خود سے ذہن میں بٹھا رکھا ہے کہ فلاں کاروبار اچھا ہے فلاں برا ہے، یہ کرنا چاہیے یہ نہیں کرنا چاہیے۔ کاروبار ایک ہوتا ہے لیکن اس میں ایک شخص بھوکا ہوتا ہے جبکہ دوسرا ارب پتی ہوتا ہے. اصل بات یہ ہوتی ہے کہ کام کرنے کا طریقہ کیا ہے۔ ہمارے ہاں کاروبار میں ناکامی کی ایک وجہ یہ ہے کہ جو کاروبار ایک خاندان میں نسل در نسل چلا آ رہا ہوتا ہے، اس کو چھوڑ دیا جاتا ہے، اور اس کی جگہ نیا کاروبارشروع کر دیا جاتا ہے۔ جو خاندان ایک کاروبار کر رہا ہو، فرض کریں کہ اس خاندان کا ایک بچہ تعلیم حاصل کر رہا ہو تو نہ چاہتے ہوئے بھی اسے اپنے کاروبار کی پچاس فیصد سمجھ آ جاتی ہے، اب جس کو پہلے ہی کاروبار کی پچاس فیصد سمجھ ہو، اسے اس کاروبار میں کامیاب ہونا آسان ہوتا ہے۔ آج ہمارے نوجوانوں میں جو مایوسی اور ڈپریشن ہے، اس کی دو وجوہات ہیں، پچاس فیصد نوجوانوں کے ذہنوں میں ذات پات کے مسائل چل رہے ہیں، ان کے دماغوں میں ایک ہی سوچ ہے کہ میں فلاں کا بیٹا ہوں، اس لیے ترقی نہیں کر سکتا، میرے والد کا فلاں پیشہ ہے، جو میری ترقی کی راہ میں رکاوٹ ہے، حالانکہ اللہ کے رسولﷺ نے اپنے ہاتھ سے کام کرنے والے کو اللہ تعالیٰ کا حبیب کہا ہے۔ پچاس فیصد نوجوان ایسے ہیں جن کے ذہنوں میں امیر اور غریب کی تفریق پائی جاتی ہے، ان کے دماغوں میں بس یہی چل رہا ہوتا ہے کہ فلاں اس وجہ سے آگے چلا گیا کہ اس کا باپ امیر ہے، میں تو غریب کا بیٹا ہوں، اس لیے آگے نہیں جا سکا حالانکہ اگر دیکھا جائے تو اس وقت دنیا میں جتنے امیر لوگ ہیں، ان میں سے اسی فیصد کا تعلق متوسط یاغریب طبقے سے ہے۔ امیر لوگوں کی اولاد کمفرٹ زون رہتی ہے جس کی وجہ سے ان میں محنت کرنے کا جذبہ پیدا نہیں ہوتا جبکہ محرومی خواب بناتی ہے اور محنت کرنے پر مجبور کرتی ہے۔ اللہ تعالیٰ کے ہاں سب برابر ہیں، امیر کا بچہ بھی اسی پروسس سے پیدا ہوتا ہے، جس پروسس سے غریب کا بچہ پیدا ہوتا ہے، اللہ تعالیٰ سب کو یکساں مواقع فراہم کرتا ہے، جو امتحان ہوتے ہیں وہ تو درجات بڑھانے کے لیے ہوتے ہیں۔
ناکامی تکرار کرنے سے بڑھتی ہے، خاموشی اختیار کرنے سے کم ہوتی ہے، صبر کرنے سے ختم ہوتی ہے، اور شکر کرنے سے کامیابی میں بدل جاتی ہے جس کسی کو اپنے کام میں کسی قسم کی مشکلات اور چیلنجز کا سامنا ہو تو اسے چاہیے کہ وہ اس حدیث قدسی کے مفہوم کو سامنے رکھے کہ ”ساری دنیا مل کر نفع پہنچانا چاہے لیکن رب نہ چاہے تو نفع نہیں ہو سکتا اور ساری دنیا مل کر نقصان پہچانا چاہے لیکن رب نفع پہچانا چاہے تو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتا۔“ کوئی بھی والدین اپنی اولاد کو ناکام نہیں دیکھنا چاہتے اور وہ ذات ِباری تعالیٰ جو ستر ماؤں سے زیادہ پیار کرتا ہے، وہ کیسے چاہے گا کہ میرا بندہ ناکام ہو، اس لیے بندے کو ہمیشہ اللہ تعالیٰ سے اچھا گما ن رکھنا چاہیے، اسے سوچنا چاہیے کہ اگر میرے حالات اچھے نہیں ہیں تو اس میں اللہ تعالیٰ کی حکمت ہوگی۔ اگر غور کیا جائے، کئی حالات و واقعات ایسے ہوتے ہیں کہ جب بندہ ان سےگزر رہا ہوتا ہے تو شدید کرب میں ہوتا ہے اور اس وقت اس کی ایک ہی خواہش ہوتی ہے کہ جتنی جلد ممکن ہو سکے، ان سے چھٹکارہ مل جائے لیکن وہی حالات اس کی کامیابی کے لیے سیڑھی کا کردار ادا کرتے ہیں، بعد میں بندہ جب ان کو دیکھتا ہے تو سوچتا ہے کہ اگر وہ حالات پیش نہ آتے تو آج میں اس مقام تک نہ پہنچ پاتا۔ جو بندہ پریشانیوں کو سر پر اٹھاتا ہے، وہ اس کے نیچے دب جاتا ہے اور جو پریشانیوں کو پاؤں کے نیچے رکھتا ہے، اس کا قد پہلے سے بھی بڑا ہوجاتا ہے۔
جو شخص اچھا بزنس مین، اچھا ٹیچر، اچھا مینجر یا اچھا والد بننا چاہتا ہے، اسے سب سے پہلے اچھا انسان بننا پڑے گا۔ کسی بھی شعبےمیں کامیاب ہونے کے لیے سب سے پہلے اچھا انسان بننا بہت ضروری ہے، یہی کاروبار میں کامیابی کی پہلی سیڑھی ہے۔ آج ہم نے یقین بنا لیا ہے کہ جھوٹ کے بغیر کاروبار نہیں ہو سکتا لیکن حقیقت میں ایسا نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ جس نے ہمیں پیدا کیا ہے، اس نے بتایا ہے کہ دنیا میں کیسے رہنا ہے اور صرف وہی کچھ کرنا ہے، جس سے دنیا اور آخرت دونوں میں کامیابی حاصل ہو۔ اللہ تعالیٰ نے ہم پر بڑا احسان یہ کیا کہ اس نے حضوراکرم ﷺ کو ہماری ہدایت کے لیے بھیجا، آج ہمارے پاس قرآنِ پاک ہے، آپ ﷺ کی سیرت طبیہ ہے جن سے استفادہ کیا جاسکتا ہے مگر بدقسمتی یہ ہے کہ ہماری اکثریت ایسے لوگوں پر مشتمل ہے جنہوں نے کبھی ترجمے کے ساتھ قرآنِ مجید نہیں پڑھا، سیرتِ طیبہ کا مطالعہ نہیں کیا۔ لوگوں کی بڑی تعداد ایسی ہے جو جذباتی حد تک تو آپﷺ سے عشق کرتی ہے لیکن انہیں آپﷺ کے شب و روز کا اندازہ ہی نہیں ہے۔ سب سے بہترین طریقہ حضوراکرم ﷺ کی اطاعت ہے، سوفیصد کامیابی کا راستہ حضوراکرم ﷺ کا بتایا ہوا راستہ ہے۔ قرآن ِپاک کو سمجھ کر پڑھنا چاہیے، یہ ہرانسان کے لیے کھلا خط ہے۔ دنیا و آخرت کی ترقی کے لیے اللہ، اس کی کتاب اور اس کے رسولﷺ کے علاوہ اور کوئی راستہ نہیں ہے۔
کسی بھی فیلڈ میں کامیابی حاصل کرنا بہت آسان ہوتا ہے لیکن ہم خود ہی اس کو مشکل بناتے ہیں۔ بچپن میں جب بندہ سائیکل چلانا سیکھتا ہے تو کئی دفعہ گرتا ہے لیکن اس کے باوجود سائیکل چلانا سیکھ جاتا ہے، اگر اس وقت اسے پوچھا جائے کہ کیا سائیکل چلانا آسان ہے یا مشکل ہے تو وہ جواب دےگا کہ بہت آسان ہے، بالکل ایسے ہی کوئی بھی کاروبار جب شروع کیا جاتا ہے تو اس میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے لیکن پھر آسانی پیدا ہوجاتی ہے۔ جن لوگوں کو اللہ تعالیٰ پر اور اپنے آپ پر یقین ہوتا ہے، وہ سوفیصد کامیاب ہو جاتے ہیں، جن لوگوں کو اللہ تعالیٰ سے اور اپنے سے امید ہوتی ہے، وہ پچاس فیصد کامیاب ہوتے ہیں اور پچاس فیصد ناکام ہوتے ہیں جبکہ جو مایوس ہوتے ہیں اور انھی اپنی کامیابی کا یقین نہیں ہوتا، وہ سوفیصد ناکام ہو جاتے ہیں۔ نپولین ہل بھی اپنی کتاب Think and Grow Rich کے پہلے باب میں یقین کا ذکر کرتا ہے۔ جو لوگ کامیاب ہوتے ہیں، ان کا پیشہ اور مشغلہ ایک ہوتا ہے، اگر کام اور مشغلہ ایک نہ ہو تو پھر محنت مشقت بن جاتی ہے اور بندہ ا نتظار کرتا رہتا ہے کہ کب وقت ختم ہو اور میری جان چھوٹے جب مشغلہ اور کام ایک ہوتا ہے تو وقت گزرنے کا احساس ہی نہیں ہوتا۔ کام اور مشغلے کے ایک ہونے کے علاوہ کاروبار میں تعلیم کا بھی اہم کردار ہوتا ہے۔ تعلیم کے بغیر انسان نابینا ہوتا ہے، تعلیم کے بغیر بندہ نہ تو دین کو سمجھ سکتا ہے اور نہ ہی دنیا کو، جس کے پاس تعلیم بھی ہو اور عمل بھی ہو تو وہ دو دھاری تلوار بن جاتا ہے اور جو شخص محنت کے ساتھ اللہ تعالیٰ پر توکل کرتا ہے، کامیابی اس کے پیچھے بھاگتی ہے۔
چند نصیحتیں خوشحال زندگی کی ضمانت
چند نصیحتیں خوشحال زندگی کی ضمانت
۱- دن کا آغاز نماز فجر، اذکاراور توکل علی الله سے
۲- گناھوں سے مسلسل معافی مانگتے رھیں، گناہ بھی معاف رزق میں بھی اضافہ
۳- دعا نہ چھوڑیں، یہ کامیابی کی کنجی ھے
۴- یاد رکھیں زبان سے نکلے کلمات لکھے جارھے ھیں
۵- سخت آندھیوں میں امید کا دامن نہ چھوٹے
۶- انگلیوں کی خوبصورتی انکے ذریعہ تسبیح کرنے میں ھے
۷- افکار اور غم کی کثرت میں کہیں لااله الا الله
۸- روپے پیسے سے فقیروں کی دعا مسکینوں کی دعا خریدیں
۹۔ خشوع اور اطمینان سے کیا گیا سجدہ زمین بھر سونے سے بھی بھتر ھے، اسکی قدر کریں
۱۰- زبان سے کوئی لفظ نکالتے ھوئے سوچیں اسکے اثرات کیا ھونگے، ایک لفظ بعض اوقات مہلک ھو جاتا ھے
۱۱- مظلوم کی بدعا اور محروم کی آہ سے بچیں
۱۲- اخبار رسائل سے پہلے کچھ تلاوت قرآن کرلیں
۱۳- آپ اپنی اصلاح کی فکر کریں آپکا گھرانہ بھی آپکے راستہ پر چلیگا
۱۴- آپکا نفس برائی کی طرف بلاتا ھے، اسکو نیکی میں لگاکر مقابلہ کریں
۱۵- والدین کی قدر کیجئے انکو نعمت عظمی سمجھیں، رضائے الہی کا قریبی سبب ھے
۱۶- آپکے پرانے کپڑے غریبوں کے لیئے نئے ھیں
۱۷- زندگی انتہائی مختصر ھے غصہ نہ کریں، کسی سے بغض نہ رکھیں، رشتہ داریوں اور تعلقات کو خراب نہ کریں
۱۸- آپکو سب سے زیادہ طاقت والے اور سب سے بڑے مالدار کا ساتھ حاصل ھے (الله سبحانہ و تعالی) اسپر اعتماد کریں اور خوش رھیں
۱۹- گناھوں سے اپنے لیئے دعا کی قبولیت کا دروازہ بند نہ کریں
۲۰- مصیبتوں، مشقتوں حتی کے ذمہ داریوں کے نبھانے میں نماز آپکی مددگار ھے، اسکا سہارہ لیں
۲۱- بدگمانی سے بچیں، دوسروں کو بھی راحت پہنچائیں اور خود بھی راحت میں رھیں
۲۲- تمام فکروں غموں کا سبب اپنے رب سے دوری ھے، اس دوری کو ختم کردیں
۲۳- نماز کا اھتمام کریں، قبر میں یہی ساتھ جائیگی
۲۴- غیبت کریں نہ سنیں ، کوئی کررھا ھو تو اسکو بھی روکیں
۲۵- سورۃ الملک کی تلاوت نجات کا باعث ھے
۲۶- خشوع سے خالی نماز، آنسو سے خالی آنکھیں محرومی ھے، اس محرومی سے نکلیں
۲۷۔ دوسروں کو تکلیف دینے سے بھت بچیں
۲۹- تمام تر محبت الله اور رسول کے لیئے اور مخلوق کے لیئے اچھے اخلاق
۳۰- جو آپکی غیبت کرے اسکو معاف کردیں وہ تو خود اپنی نیکیاں آپکی نذر کررھا ھے
۳۱- نماز، تلاوت ، ذکر چہرہ کا نور، دل کا چین اور مزید نیک اعمال کی توفیق کا ذریعہ ھے
۳۲- جو جہنم کی آگ یاد رکھے، گناہ سے بچنا اسکے لیئے آسان ھوجئیگا
۳۳- جب رات ھمیشہ نہیں رھتی تو غم پریشانی کے بادل بھی چہٹ جائینگےاور تنگی آسانی سے بدل جائیگی
۳۴- بحث مباحثہ چھوڑیے بڑے بڑے کام کرنے کو پڑے ھیں
۳۵- نماز اطمینان سے ادا کریں باقی سارے کام اس سے بھت کم اہمیت کے ھیں
۳۶- قرآن تک ہر وقت رسائی رکھیں، ایک آیت کی تلاوت بھی دنیا ومافیہا سے بہتر ھے
۳۷- زندگی کی خوبصورتی ایمان کے بغیر نہیں
آخر مردہ یہ تمنا کیوں کریگا کہ وہ واپس آکر صدقہ کرے اس لیئے کہ وہ صدقہ کا فائدہ دیکھ لیگا۔ صدقہ کریں، مومن قیامت کے دن اپنے صدقہ کے سائے میں ھوگا۔
بھت ممکن ھے پڑھنے والا لکھنے اور بھیجنے والے سے زیادہ عمل کرلے۔
22 May 2017
وٹامن ڈی کی کمی کیسے پوری کریں؟

وٹامن ڈی کی کمی کیسے پوری کریں؟
دھوپ میں بیٹھنے کا عمل صرف موسمِ سرما میں ہی فائدہ دے سکتا ہے۔
وٹامن ڈی ہماری غذا کا لازمی جزو اور بدن کا ایک اہم عنصر ہے۔
ہماری ہڈیوں کی ساخت، بڑھوتری اور حفاظت کا دارو مدار کیلشیم اور وٹامن ڈی پر ہی ہوتا ہے۔ دودھ کیلیشم اور وٹامن ڈی کا بہترین قدرتی ذریعہ ہے، بشرطیکہ دودھ خالص ہو اور گائے، بکری، بھیڑ اور بھینس کا ہو۔ یاد رہے بھیڑ کے دودھ میں وٹامن ڈی بکثرت پایا جاتا ہے۔
ایسے تمام افراد جنہیں وٹامن ڈی کی کمی کا سامنا ہو وہ روزانہ بھیڑ کے دودھ کا ایک گلاس صبح اور ایک گلاس شام پینا شروع کردیں۔ اسی طرح دیسی گھی بھی قدرتی طور پر وٹامن ڈی کا خزانہ مانا جاتا ہے۔ اپنے پورے جسم پر خالص دیسی گھی کی مالش کر وا کے نصف گھنٹہ دھوپ میں بیٹھیں۔ دھوپ بھی قدرتی وٹامن ڈی کا ایک ذریعہ ہے۔ دیسی گھی کی مالش سے جسم میں سورج کی شعاعوں سے وٹامن ڈی جذب کرنے کی صلاحیت کئی گنا بڑھ جاتی ہے۔ دھیان رہے رواں موسم کی دھوپ میں بیٹھنے سے گریز کریں کیوں کہ دھوپ کی شدت سے جلدی مسائل کا اندیشہ ہو سکتا ہے۔ دھوپ میں بیٹھنے کا عمل صرف موسمِ سرما میں ہی فائدہ دے سکتا ہے۔
علاوہ ازیں ہڈیوں کو مضبوط کرنے والی ورزشوں کا انتخاب بھی کرسکتے ہیں۔وٹامن ڈی کی حامل دیگر غذاؤں میں آلو، پالک، کیلا، بادام، پستہ اور تازہ مکھن وغیرہ شامل ہیں۔ ان کا ترتیب سے استعمال کر کے بھی آپ وٹامن ڈی کی کمی سے چھٹکارا پا سکتے ہیں۔
بچوں میں احساس ذمہ داری کیسے پیدا کیا جائے؟
بچوں میں احساس ذمہ داری کیسے پیدا کیا جائے؟
اس مسئلے کے حل کے لیے شروع سے توجہ دینے کی ضرورت ہو تی ہے۔
بچوں کی بہترین تربیت ان کا بنیادی پیدائشی حق ہے۔ یہ والدین کا فرض ہے کہ وہ اپنے بچے کی تر بیت میں بہترین کردار ادا کریں۔
بچوں میں احساس ذمہ داری پیدا کرنا درحقیقت ان کی نفسیا تی تربیت کا حصہ ہے ۔ یہ احساس بچوں میں جگانا اتنا ہی ضروری ہے جتنا کہ ان کی تعلیم اور غذا کا خیال رکھنا۔ اسی طریقے سے ان کی نفسیاتی تربیت ہو نا بھی زند گی کا بہت اہم پہلو ہے ۔ بچوں میں مثبت اور منفی رویے بیدار کر نے میںگھر کی تربیت ، ارد گرد کا ما حول، اسکول اور بچے کے دوست ، اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ اس لیے ہر چیز پر نظر رکھنا، اچھے برے کا فرق سمجھانا والدین کا فرض ہے۔
ان رویوں میں اک بہت اہم رویہ احساس ذمہ داری بھی ہے جو آج کل ہمارے معاشرے میں کم ہو تا جا رہا ہے۔ اکثر لوگ بے پروائی،بے حسی اور غیر ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے نظر آتے ہیں۔ بہت ممکن ہے کہ ان میں یہ عادت بچپن سے ہو جو وقت کے ساتھ ساتھ پختہ ہوگئی ہو۔ ایسے لوگ معاشرے اور خود اپنے اہل خانہ پر بوجھ بن جا تے ہیں۔ شروع ہی سے اگر بچوں میں احساس ذمہ داری کی عادت ڈالی جا ئے تو پھر وہ محنت سے جی نہیں چُراتے۔ ان کے اندر سے کا ہلی ،سستی اور کام چوری کی عادت ختم ہو جا تی ہے۔ پھر وہ بڑے ہو کرکام یاب انسان بنتے ہیں اور اپنے والدین اور ملک کا نام بھی روشن کرتے ہیں۔
اسی احساس ذمہ داری کی وجہ سے وقت کی پابندی اور اپنے کام کو وقت سے پہلے مکمل کر نا بھی ان کی عادات میں شامل ہو جا تا ہے ۔ یہی عادت ان کی ترقی اور کامیا بی کا سبب بنتی ہے۔ اس طرح وہ الجھن اور جلد بازی میں کام بگڑنے اور پورا نہ ہو نے کی پریشانی سے بچ جا تے ہیں ۔جس کی وجہ سے ان کا موڈ ہمیشہ خوشگوار اور زندگی سے بھر پور رہتا ہے۔ ان کی جسمانی صحت پر بھی اچھا اثر پڑتا ہے ۔
اب سوال یہ پیدا ہو تا ہے کہ بچوں میں احساس ذمہ داری کیسے پیدا کیا جائے؟ اس کے لیے والدین کوسب سے پہلے خودکو ذمہ دار انسان ثابت کر نا ہو گا۔کیوںکہ بچے جو کچھ اپنے والدین کو کر تا ہوا دیکھتے ہیں، وہی سیکھتے ہیں ۔ اگر والدین نماز پڑھتے ہیں تو وہ بھی ان کے ساتھ ساتھ جائے نماز بچھا کر بیٹھ جا تے ہیں۔ بھلے انھیں نماز پڑھنی نہ آتی ہو لیکن اپنے والدین اور گھر کے بڑوں جیسے نانا، نا نی، دادا ،دادی وغیرہ کی تقلید کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
اگر والدین غیرذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہیں اور بچوں کے سامنے اس طرح کے فقرے ادا کرتے رہیں کہ کرلیں گے، ابھی بہت وقت پڑا ہے، تو بچے یہ باتیں ذہن میں بٹھالیتے ہیں۔ پھر جب ان سے کو ئی کام کہا جا ئے تو وہ سستی اور کا ہلی کا مظاہرہ کر تے ہو ئے اپنے بڑوں کے الفاط دہراتے ہیں کہ کر لیں گے ابھی بہت وقت ہے وغیرہ وغیرہ ۔
اس مسئلے کے حل کے لیے شروع سے توجہ دینے کی ضرورت ہو تی ہے۔ دو چار ایسے کام جو بچوں کی عمر کے حساب سے ہوں اور جسے وہ شوق اور آرام سے کر سکیں، شر وع سے ہی ان کی عاد ت میں شامل کردینے چاہیں ۔مثال کے طور پر جب بچے بہت چھوٹے ہو تے ہیںجیسے تین چار سال کے، تو وہ آرام سے گملوں میں پا نی ڈال سکتے ہیں۔ گملے کو ایسی جگہ پر رکھیں کہ وہ بچے کی پہنچ میں ہو۔ اب اس کے ذمہ یہ کام لگا دیں کہ اس پودے کا دھیان آپ نے رکھنا ہے۔ اس میں روزانہ پانی ڈالنا ہے۔ اسے پہلے پا نی ڈال کر دکھائیں کہ اصل میں اسے کیا کر نا ہے۔ کو ئی بھی ذمہ داری سونپنے سے پہلے بچے کو اس پر عمل کر کے دکھائیں اور سمجھائیں تا کہ وہ کسی بھی قسم کی الجھن کا شکار نہ ہو۔
جب پودے میں سے پھول یا پھل نکلیں تو بچے کی تعریف کر یں اور اس کی اس ذمہ دارانہ کو شش کو سراہیں۔ اس طرح بچے کا حوصلہ اور شوق بڑھے گا۔ اہل خانہ اور عزیزواقارب کے سامنے بچے کے اس ذمہ دارانہ رویے کی تعریف کریں۔ پھروہ اس کام کو مجبوری سمجھ کر نہیں بلکہ شوق کے ساتھ کرے گا ۔ آہستہ آہستہ اس کی ذمہ داریوں کو بڑھائیں۔ تھوڑے بڑے ہوجائیں یعنی چھے سے آٹھ سال کی عمر کو پہنچیں توپا نی کی بوتلیں بھرکر فریج میں رکھنا، اپنے کھلونے اور کتابیں جگہ پر رکھنا، اسکول سے واپسی پر بستہ، یونی فارم اور جوتے سب چیزیں اپنی مقررہ جگہ پر رکھنے کی ہدایت کردیں۔
انھیں بتائیں کہ اس طرح اگلی صبح یہ چیزیں انھیں آسانی سے مل جایا کریں گی۔ اس کے علاوہ وہ صبح اٹھ کر اپنا بستر تہ کریں یا رات کو کمبل یا چادر جو صبح وہ تہہ کر کے کیبنٹ میں رکھ کر گئے تھے، وہ خود نکالیں اور اپنا بستر صاف یا تیار کریں۔ وقت پر پڑھنا ، وقت پر کھیلنا اور پانچ وقت کی نماز کی ادائیگی بھی ان میں احساس ذمہ داری پیدا کرنے میں معاون ہوگی۔
اگر گھر کے سارے کام خاتون خانہ کر تی ہیں تو ایسے میں لازمی طور پر بچے دسترخوان یا ڈائنگ ٹیبل پر برتن وغیرہ رکھنے اور اٹھانے میں والدہ اور بڑے بہن بھا یؤں کا ساتھ دیں۔ یہ بات ان کے ذہن میں ڈالیں کہ ہم سب گھر کے فرد ہیں۔ اس لیے ایک دوسرے کی مدد کرنا اور کام میں ہاتھ بٹانا ہما را فرض ہے۔ نیز یہ کہ اس طرح کام کر کے آپ کسی کے ملازم نہیں ہوجائیںگے۔ اس سلسلے میں لڑ کے اور لڑکی میں کو ئی فرق نہ رکھیں بلکہ ان میں برابری کی بنیاد پر یہ ذمہ داریاں بانٹیں تا کہ ان کے اندر برتری یا کمتری کا احساس پیدا نہ ہو۔
اس کے علاوہ گھر میں پرندے، مچھلیاں یا بلّی وغیرہ پال لیں جو آپ کے بچے کو پسند ہو۔ یہ بات بہت ضروری ہے کہ پالتو جانور کے انتخاب میں بچے کی پسند لازمی شا مل ہو۔ اسکول جانے سے پہلے اور آنے کے بعد یا کو ئی بھی وقت مختص کر لیں کہ اس وقت روزانہ پا بندی کے ساتھ اس پرندے یا جانور کو کھا نا اور پا نی دینا بچے کی ذمہ داری ہے۔جب بچے تھوڑے بڑے ہو جائیں یعنی ٹین ایجر ہوجائیں تو وہ اس پالتو جانور کے پنجرے یا اس کے رہنے کی جگہ کی صفائی بھی کریں۔
اس سارے معاملے میں بچے کے سا تھ کبھی زبردستی یا ڈانٹ ڈپٹ سے کام نہ لیں۔ ڈانٹ اور مار منفی رویے کو جنم دے سکتی ہے اس لیے اسے پیار سے سمجھائیں۔ وہ یہ سارے کام شوق اور اپنی ذمہ داری سمجھتے ہو ئے کرے نا کہ بوجھ سمجھ کر۔ اس طرح بچے میں اکتاہٹ اور منفی سوچ پیدا ہو سکتی ہے ۔ کوئی کام کر تے ہو ئے بچے کو مشکل درپیش ہورہی ہو تو اس سے پیار سے پو چھیے کہ کیا بات ہے؟اس کی اس مشکل کو مناسب انداز میں حل کردیں۔
سبزیوں کی سپر ہیرو
سبزیوں کی سپر ہیرو
غذائی ماہرین بھنڈی کو ایک 'ہیرو' سبزی مانتے ہیں
بھنڈی ایک پودے، اوکرا(Okra) کا پھل ہے لیکن اسے دنیا بھر میں وسیع پیمانے پر سبزی کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ لوگ عموماً بھنڈی کو لیس دار مواد کی وجہ سے کھانا پسند نہیں کرتے لیکن صحت کے فوائد دیکھتے ہوئے غذائی ماہرین بھنڈی کو ایک ’ہیرو‘ سبزی تسلیم کرتے ہیں۔
وجہ یہ کہ بھنڈی وٹامن، معدنیات، منفرد تکسیدی مادوں(اینٹی آکسیڈینٹس) اور دیگر غذائی اجزا سے بھری ہوئی ہے، جس سے کئی بیماریوں کا علاج ممکن ہے۔ خاص طور پر ذیابیطس کے علاج اور گردے کی بیماریوں کے لیے بھنڈی بہت فائدہ مند ہے۔ ایک کپ کچی بھنڈی میں لگ بھگ 30 کیلوریز، تقریباً 3 گرام غذائی ریشہ یا فائبر، 2 گرام پروٹین، 7.6 گرام کاربوہائیڈریٹ، 0.1 گرام چربی، 21 ملی گرام وٹامن سی اور تقریباً 88 مائیکرو گرام فولیٹ اور 57 ملی گرام میگنیشیم پایا جاتا ہے۔اس کے کچھ فائدے درج ذیل ہیں:
دمے سے بچاؤ
جن پھلوں یا سبزیوں میں وٹامن سی کی مقدار زیادہ پائی جاتی ہے، مثلاً بھنڈی میں تو ان کی تھوڑی سی مقدار کھانے سے دمے کی علامات کا خاتمہ ممکن ہے۔ ماہرین طب کا کہنا ہے کہ بھنڈی بچپن میں دمے کی علامات مثلاً خرخراہٹ کے خلاف انتہائی حفاظتی اثر رکھتی ہے۔ یہ حفاظتی اثرات ان بچوں میں بھی دیکھے گئے جو ہفتے میں ایک یا دوبار بھنڈی یا ترش پھل کھاتے تھے ۔
ذیا بیطس سے حفاظت
بھنڈی ذیابیطس کی بیماری کے خطرے کی روک تھام کرتی ہے۔ سائنسی مشاہدات کی رو سے حل پذیر ریشے کی وجہ سے بھنڈی ذیابیطس کے مریضوں کے لیے بہت مفید ہے۔ یہ خون میں گلوکوز کی سطح برقرار رکھنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ آنتوں میں جذب ہونے والی شکر پر بھی اثر انداز ہوتی ہے۔ ایک سائنسی جریدے، آئی ایس آر این میں شائع ہونے والی تحقیق کے مطابق طبی ماہرین نے بھنڈی کے ٹکڑوں کو پانی میں حل کیا اور اسے ایک نلکی سے چوہوں کو کھلایا۔ کنٹرول گروپ کے چوہوں کو دوسری غذا دی گئی۔ محققین کو تجربے سے پتا چلا کہ بھنڈی کھانے سے شکر کے جذب کی شرح میں کمی ہوگئی۔ نتیجے میں ذیابیطس کا علاج کیے جانے والے چوہوں کے خون میں شکر کی سطح میں کمی واقع ہوئی۔
کولیسٹرول میں کمی
بھنڈی نہ صرف نظام انہضام کو فروغ دیتی بلکہ اعلیٰ فائبر کے ساتھ صحت مند کولیسڑول کی سطح بڑھاتی ہے۔ بھنڈی میں موجود حل پذیر فائبر پانی میں تحلیل ہوسکتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ یہ فائبر غذا کی نالی میں ٹوٹ پھوٹ جاتا ہے۔ تب وہ کھانے کی دوسری چیزوں کے کولیسڑول کے ساتھ چپک جاتا اور جسم سے فضلے کے ساتھ خارج ہو جاتا ہے۔ نتیجے میں انسنی بدن میں کولیسٹرول کی سطح کم ہو جاتی ہے۔ ہارورڈ ہیلتھ اسکول کا کہنا ہے، اگر چکنائی اور کولیسٹرول والی اشیائے خورد کی جگہ بھنڈی کھائی جائے تو کولیسٹرول کی سطح کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔
مدافعتی نظام مضبوط
بھنڈی وٹامن سی اور اینٹی آکسیڈنٹ اجزا سے بھری ہوئی ہے۔ یہ مدافعتی نظام کو تقویت دیتی ہے۔ اینٹی آکسیڈینٹس جسم کے زہریلے اور غیر محفوظ آزاد ذرات یا فری ریڈیکلز کے حملوں کے خلاف حفاظت کرتے ہیں۔ وٹامن سی مدافعتی نظام کو زیادہ خون کے سفید خلیات پیدا کرنے کے لیے متحرک کرتا ہے۔ یوں مدافعتی نظام کو جراثیم اور بیماریوں کے خلاف لڑنے میں مدد ملتی ہے۔
صحت مند حمل
بھنڈی وٹامن اے، وٹامن بی اور وٹامن بی ون، بی ٹو اور بی 6 کی اعلیٰ مقدار کے ساتھ وٹامن سی سے مالامال ہے۔ اس میں زنک اور کیلشیم ہے جو حمل کے دوران کھانے کے لیے اسے ایک مثالی سبزی بناتا ہے۔ فائبر اور فولک ایسڈ کی حامل بھنڈی ایک سپلیمنٹ کے طور پر کام کرتی ہے۔ یہ بچوں میں پیدائشی نقائص کی روک تھام اور حاملہ ماؤں میں قبض کی شکایت دور کرتی ہے۔
گردے کی بیماری
سائنسی تحقیق سے پتا چلا ہے کہ باقاعدگی سے بھنڈی کھانے سے گردوں کی بیماریوں کی روک تھام میں مدد ملتی ہے۔ ایک طبّی تحقیقی جریدے میں شائع مطالعے میں ایسے شواہد سامنے آئے ہیں جن سے پتا چلتا ہے کہ جو مریض روزانہ بھنڈی کھاتے تھے، ان میں ایسے مریضوں کے مقابلے میں گردے کے نقصان کی طبی علامات میں کمی واقع ہوئی جن کی غذا میں یہ سبزی شامل نہیں تھی۔
ہڈیوں کا بُھربُھراپن ’اوسٹیو پوروسیس‘
ہڈیوں کا بُھربُھراپن ’اوسٹیو پوروسیس‘
آپ کو چاہیے کہ اس عمر میں سوڈا واٹر والی تمام کولڈرنکس سے یکسر گریز کریں۔
چالیس برس کے بعد عموماً خواتین اوسٹیوپوروسیس یعنی ہڈیوں کی بوسیدگی یا بھربھرے پن کی بیماری میں مبتلا ہوجاتی ہیں۔ اس بیماری سے بچاؤ میں کیلشیئم بنیادی کردار کرتا ہے۔
جسم میں کیلشیئم کی مقدار پوری رکھ کر اس بیماری سے بچا جاسکتا ہے۔ بہ الفاظ دیگرجسم میں کیلشیئم کی کمی نہ ہو تو بہت حد تک یہ بیماری لاحق نہیں ہوگی کیلشیئم ہماری ہڈیوں کے لیے لازمی جز ہے جو انھیں نہ صرف مضبوط رکھتا ہے بلکہ ان کو جوڑے رکھنے میں مسالے کا کردار ادا کرتا ہے۔ کیلشیئم ہڈیوں کو مضبوطی سے آپس میں جوڑے رکھتا ہے۔ اس سے آپ جوڑوں کے درد سے بھی بچ سکتی ہیں۔ لہٰذا اپنے جسم میں کیلشیئم کی کمی نہ ہونے دیں۔
اگر دودھ اور دیگر اجزا سے آپ مکمل کیلشیئم نہیں لے پارہی ہیں تو ڈاکٹر کے مشورے سے اپنی غذا میں اس کا سپلیمنٹ شامل کریں۔ یہ خیال رہے کہ جو سپلیمنٹ آپ لے رہی ہیں وہ وٹامن ڈی کا حامل بھی ہو کیوں کہ صرف کیلشیئم ہڈیوں تک نہیں پہنچتا اسے جزوبدن بنانے کے لیے وٹامن ڈی کی بھی ضرورت ہوتی ہے لہٰذا ’ کیلشیئم پلس وٹامن ڈی ‘ ہونا چاہیے۔
وٹامن ڈی اور کیلشیئم کے علاوہ بھی ہڈیوں کے لیے غذائیت والی دوسری اشیا کی ضرورت ہوتی ہے مثلاً میگنیشیئم، وٹامن سی، ڈی اور بورون وغیرہ ہڈیوں کو فائدہ پہنچاتی ہیں۔کیلشیئم کے ساتھ ساتھ ان معدنیات کو بھی جسم میں کم نہ ہونے دیں۔ کمی کی صورت میں ان کے بھی سپلیمنٹ لیے جاسکتے ہیں۔ چالیس برس کا عبور کراس کرنے والی خواتین اس بات کا خاص خیال رکھیں۔
اس عمر میں آپ اپنی غذا میں سے دودھ، مکھن، دہی اور بالائی وغیرہ کو نہ نکالیں بلکہ اعتدال میں رہتے ہوئے استعمال کریں۔ موٹاپے سے بچنے کے لیے ورزش کریں۔ غذا کا استعمال نہ ترک کریں۔ خود کو پہلے سے زیادہ مصروف رکھیں ایسی سرگرمیوں میں حصہ لیں جس میں ہاتھ، پیروں کا زیادہ استعمال ہو مثلاً روزانہ صبح و شام حسب استعداد چہل قدمی کریں۔
اپنی خوراک میں پالک، پھلیاں، سلاد، انڈا اور مچھلی کو شامل کریں۔ دالیں، دلیہ، مکئی، جو کو مختلف طریقوں سے پکاکر کھائیں۔ میٹھے میں پھلوں اور شہد کے استعمال کو فوقیت دیں۔ اس عمر میں آپ ایسی غذائیں زیادہ استعمال کریں جو امائنوایسڈ سے بھرپور ہوں۔ یہ بھی کیلشیئم جذب کرنے میں مدد دیتی ہیں۔ اگر آپ کیلشیئم سپلیمنٹ لیں تو اسی وقت وٹامن سی بھی لیں یا ایسی غذائیں لیں جس میں اس کی مقدار زیادہ ہو مثلاً لیموں، کینوں اور مالٹا وغیرہ یا ان کے سپلیمنٹ کیوں کہ وٹامن سی بھی کیلشیئم کو جزد برن کرنے میں بہت مدد دیتی ہے۔
دن بھر میں آپ کو کیلشیئم اور دوسرے وٹامن کی کتنی مقدار درکار ہوتی ہے؟ یہ جاننے کے لیے ڈاکٹر سے مشورہ کریں اور اس کے مشورے کی روشنی میں پورے دن تھوڑے تھوڑے وٹامنز اور منرلز لیتی رہیں۔ یک دم کیلشیئم زیادہ مقدار استعمال کرنے سے فائدہ نہ ہوگا۔ کوشش کریں کہ سپلیمنٹ کے بجائے یہ تمام اجزا غذا سے حاصل کریں۔
ایسی غذائیں یا سپلیمنٹ ایک ساتھ نہ لیں جن میں بیک وقت کیلشیئم کی زائد مقدار اور آئرن شامل ہو۔ ایک ساتھ لینے سے دونوں معدنیات کی افادیت میں کمی آجاتی ہے۔ اسی طرح سے زنک، فاسفورس، سوڈیم، الکحل، کیفین، ٹیفین وغیرہ کو کیلشیئم کے ساتھ نہ استعمال کریں کیوںکہ یہ کیلشیئم کے جزو بدن بننے کی راہ میں مزاحم ہوتی ہیں۔
آپ کو چاہیے کہ اس عمر میں سوڈا واٹر والی تمام کولڈرنکس سے یکسر گریز کریں اور ان کی جگہ پانی کا استعمال رکھیں۔ لیموں پانی، لسی، ستو، ناریل کا پانی اور ٹھنڈائی آپ کے لیے مفید ہے۔ پھلوں کا قدرتی رس، دودھ میں شامل کرکے ان کا شیک بھی استعمال کیا جاسکتا ہے۔
موسم کی مناسبت سے سوپ اور مچھلی کا استعمال ہر ہفتے کریں۔ گوشت کو سبزیوں، خصوصاً پتوں والی سبزی کے ساتھ کھائیں اور گوشت کھانے کے بعد لیموں پانی، سبز چائے یا قہوہ پینا نہ بھولیں۔ ورزش ضرور کریں۔ زیادہ نمک اور زیادہ چینی سے پرہیز کریں۔ فاسفورس والی غذائیں اور قوت بخش مشروبات کا استعمال بالکل نہ کریں یا کم کردیں کیوںکہ ان کے استعمال سے پیشاب زیادہ آتا ہے جو کیلشیئم کے اخراج کا سبب بن سکتا ہے۔
سفید آٹا اور اس سے بنی اشیا بھی کھانا چھوڑدیں یا کم کردیں کیوںکہ یہ بدن میں کیلشیئم کے انجذاب کو روکتی ہیں۔ خشک پھلوں کی زائد مقدار اور فائبر کا بہت زیادہ استعمال بھی کیلشیئم کو جذب ہونے میں مزاحمت کرتا ہے۔ لہٰذا 40 برس کے بعد اپنی غذا میں شامل اجزا کا چارٹ کسی ماہر نیوٹریشن سے بنوالیں اور اس کے مطابق اپنی خوراک میں غذائی اجزا شامل کریں تو یہ زیادہ بہتر ہوگا۔
سن اسکرین کے بغیر ہفتے میں تین بار پندرہ منٹ کے لیے سورج طلوع ہونے کے فوراً بعد ایسی جگہ لیٹ جائیں جہاں سورج کی کرنیں آپ کے جسم پر پڑیں۔ یہ آپ کی ہڈیوں کے لیے بہت مفید عمل ہے اور اوسٹیوپوروسیس سے بچنے کا ایک مجرب نسخہ بھی ہے۔ دھوپ سینکنے کا بہترین وقت صبح سورج نکلنے کے بعد سے اس کی شعاعوں میں حرارت بڑھنے تک ہے۔ یاد رکھیں اگر اوسٹیوپوروسیس سے بچنا ہے تو کسی بھی وٹامن، منرل خصوصاً کیلشیئم کی کمی نہ ہونے دیں۔
ننھے تارے
ننھے تارے
![]() |
سکول جانے والے بچوں کی صحت خصوصی توجہ کی متقاضی۔
|
عام مشاہدہ ہے کہ اسکولوں کے باہر ریڑھی والے گولا گنڈہ، لیموں پانی، رنگ برنگے مشروبات اور دوسری کھانے پینے کی اشیاء لے کر کھڑے ہوتے ہیں جو کسی بھی طرح صحت بخش نہیں ہوتیں۔ بچے ہاف ٹائم میں اور چھٹی کے وقت ان خوانچہ فروشوں سے چیزیں لے کر کھاتے پیتے ہیں۔
گندے اور جراثیم زدہ اجزا سے انتہائی خراب ماحول میں بنائی گئی چیزیں بچوں کو پیٹ کے امراض میں مبتلا کردیتی ہیں۔ اس کے نتیجے میں وہ بیمار ہوجاتے ہیں۔ علاج معالجے کی وجہ سے وہ کئی روز تک اسکول نہیں جاپاتے۔ اس طرح ایک طرف تو وہ بیمار ہوکر تکلیف اٹھاتے ہیں اور دوسری جانب اسکول سے غیرحاضری کے باعث ان کی پڑھائی کا بھی حرج ہوتا ہے۔
خوانچوں پر فروخت ہونے والی جراثیم زدہ اور غیرصحت بخش چیزوں سے اپنے بچوں کو بچانا بہت اہم ہے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ انھیں ضرورت کی ہر چیز گھر ہی سے تیار کرکے دی جائے۔ دوسرے انھیں اس بات کا احساس دلایا جائے کہ بازاری اشیاء صحت کے لیے نقصان دہ ہوتی ہیں اور انھیں کھانے پینے سے گریز کرنا چاہیے۔ اسکول جاتے ہوئے بچے کے پاس پانی والی بوتل اور لنچ باکس ضرور ہونا چاہیے۔ ایسی واٹر بوٹل خریدیں جس میں بچے کی آدھے دن کی ضرورت کے مطابق پانی آجائے اور ٹھنڈا بھی رہے۔
پانی کے علاوہ انھیں گھر میں تیار کردہ مشروب بھی بوتل میں بھر کر دیا جاسکتا ہے ۔ اس طرح وہ باہر ریڑھی پر ملنے والے مشروبات کی طرف راغب نہیں ہوں گے۔ اسی طرح لنچ باکس انھیں خوانچہ فروش کے پاس ملنے والی چیزیں کھانے سے روکے گا۔ لنچ کے لیے بچے کو اس کی پسندیدہ چیز بنا کردیں۔ آج کل بچے عام طور پر سبزیاں پسند نہیں کرتے۔ مگر ان کی صحت کے لیے سبزیاں بھی بہت اہمیت رکھتی ہیں۔
اگر بچے سبزیاں کھانا پسند نہیں کرتے تو اس میں غلطی ماؤں کی بھی ہوتی ہے جو بچوں کی فرمائش پر انھیں زیادہ تر گوشت سے بنے پکوان کھلاتی ہیں۔ اس طرح بچوں میں ائرن ، وٹامنز، پروٹین کی کمی واقع ہوجاتی ہے۔ بچوں کی صحت کے لیے گوشت کے ساتھ ساتھ سبزیاں بھی نہایت ضروری ہیں۔ چناں چہ بچوں کو ان کی جانب راغب کیجیے۔ اس کا آسان طریقہ یہ ہے کہ تازہ کھیرا ،گاجر ،سلاد پتہ،مولی کاٹ کر سلاد کی پلیٹ بنائیں اور سالن،روٹی،چاول سے پہلے بچوں کے آگے رکھیں اور ان کی افادیت بتاکر انھیں کھانے پر مجبور کریں۔
میٹھے میں کسٹرڈ،کھیر یا پڈنگ بنانے کے بجائے بچوں کو پھل کھانے کا کہیں اور پھل ہی ان کے سامنے رکھیں۔ اگر بچے پھل اور سبزیاں نہ کھائیں تو ان کی اہمیت کا احساس دلانے کے لیے ان کا جیب خرچ وغیرہ بند کردیں۔ اس طرح احساس ہوگا کہ اگر وہ گھر میں موجود صحت بخش اور تازہ پھل نہیں کھائیں گے تو جیب خرچ سے محروم ہوجائیں گے۔ یوں دھیرے دھیرے وہ پھل اور سبزیوں کی طرف مائل ہوجائیں گے۔ پھر وہ جیب خرچ کو بازاری چیزیں خریدنے پر صرف نہیں کریں گے۔ اس طرح ان میں بچت کی عادت بھی پیدا ہوجائے گی۔
اگر آج آپ اپنے بچوں کے لیے معمولی سی کوشش کرلیں گے تو وہ صحت مند رہیں گے اور نصابی و غیرنصابی سرگرمیوں میں بہترین کارکردگی دکھائیں گے۔
ورزش بینائی کو بھی بہتر بناتی ہے
ورزش بینائی کو بھی بہتر بناتی ہے
![]() |
| ورزش اور جسمانی مشقت سے دماغ کے بصری حصے میں نیورون کی فائرنگ مؤثر اور بہتر ہوجاتی ہے |
سانتا باربرا: ماہرین ایک عرصے سے یہ بات کہہ رہے ہیں کہ کوئی خوراک اور دوا ورزش کی جگہ نہیں لے سکتی کیونکہ ورزش سے بیماریاں دور رہتی ہیں اور دل مضبوط ہوتا ہے جب کہ پھیپھڑے، دماغ اور جگر پر مفید اثرات مرتب ہوتے ہیں اور نیند اچھی آتی ہے لیکن اب تازہ خبر یہ ہے کہ ورزش آنکھوں کی بصارت کے لیے بہترین ہے۔
حال ہی میں چوہوں اور دیگر جانوروں پر کیے گئے تجربات سے ثابت ہوا ہے کہ جسمانی سرگرمی کے دوران ان کے دماغ کے بصری حصے میں نیورونز پہنچنے کا سلسلہ (نیورون فائرنگ) بڑھ جاتی ہے جو نظر کو بہتر بناتی ہے اور اسے برقرار رکھتی ہے۔
اس کے لیے ماہرین نے ایک تجربہ وضع کیا جس میں انسانی رویوں اور نیورل امیجنگ کے درمیان تعلق کو نوٹ کیا گیا۔ اس میں دیکھا گیا کہ جسمانی ورزش سے سے انسانی بصارت سے وابستہ دماغی افعال پر کیا اثر پڑتا ہے۔ اس میں دیکھا گیا کہ ہلکی ورزش بصری قشر ( وژول کورٹیکس) پر اچھا اثر ڈالتی ہے اوریہ وہ جگہ ہے جو ہمیں کسی منظر دیکھنے کے قابل بناتی ہے۔
یہ تحقیق یونیورسٹی آف کیلیفورنیا کے سائنسدانوں نے کی ہے اور انکا خیال ہے کہ جانوروں پر کیے گئے تجربات اور ان کی دریافت عین انسانوں کے لیے بھی درست ثابت ہوسکتی ہے۔ لیکن یہ بات ضرور سامنے آئی ہے کہ ورزش سے بینائی اور اس سے وابستہ نظام پر اچھے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔
بچوں کو ڈرانے دھمکانے کے منفی اثرات زندگی بھر قائم رہتے ہیں
بچوں کو ڈرانے دھمکانے کے منفی اثرات زندگی بھر قائم رہتے ہیں
![]() |
سروے سے معلوم ہوا ہےکہ جن بچوں کو ڈرایا دھمکایا گیا
ان کا رویہ انتہائی پرتشدد ہوگیا
|
پٹس برگ: ایک طویل سروے سے معلوم ہوا ہے کہ اگر اوائل عمر میں بچوں کو ڈانٹ ڈپٹ، ہراساں اور خوف کا سامنا ہو تو اس کے نفسیاتی اور طبعی اثرات پوری زندگی پر محیط ہوتے ہیں یہاں تک کہ اس سے امراضِ قلب کا سامنا بھی ہوسکتا ہے۔
اس عمل کے لیے ماہرین نے ’’بُلیئنگ‘‘ کا لفظ استعمال کیا ہے جو ایک وسیع رویئے کا احاطہ کرتا ہے جس میں کسی بچے کو گھر، اسکول یا ساتھیوں کی جانب سے حوصلہ شکنی، ستانے، ڈرانے دھمکانے، یا تشدد کا سامنا کرنا ہوتا ہے۔ اس کا احوال سائیکولوجیکل سائنس میں شائع ہونے والی اس رپورٹ میں بیان کیا گیا ہے۔ اس انوکھے سروے میں 300 امریکی مردوں کا گریڈ اول سے لے کر 30 کے عشرے تک جائزہ لیا گیا اور دیکھا گیا کہ آیا اگر وہ بچپن میں کسی عمل کے شکار ہوئے تو عمرگزرنے کے ساتھ ساتھ اس کے کیا منفی اثرات برآمد ہوئے ہیں۔
یہ سروے یونیورسٹی آف پٹس برگ کی خاتون ماہرنفسیات نے کیا ہے جس میں ان کا کہنا ہےکہ جن بالغوں کو بچپن میں دھونس اور ڈانٹ کا نشانہ بنایا گیا وہ سگریٹ نوشی اور دیگر نشے کی جانب مائل ہوئے، 20 سال بعد ان کا رویہ بہت پرتشدد تھا اور ان کی زندگی میں بہت معاشی مشکلات آئیں۔ اس کے علاوہ اگلے مزید 20 برسوں تک وہ اپنے مستقبل سے مایوس دکھائی دیئے جب کہ ادھیڑ عمری میں ایسے افراد دل اور شریانی امراض کے شکار بھی زیادہ ہوئے۔
ماہر نفسیات کےمطابق سروے میں ایک اور بات یہ بھی دیکھنے میں آئی کہ جن افراد نے بچپن میں تشدد دیکھا خود انہوں نے اپنے بچوں کو بہت ڈانٹا اور ان پر بھی تشدد کیا جو ایک خطرناک رحجان ہے۔
خواتین کو دن بھر توانا رکھنے کے ٹوٹکے
خواتین کو دن بھر توانا رکھنے کے ٹوٹکے
خواتین دن کا آغاز کچھ دیر سورج کی روشنی میں بیٹھ کر اور دوپہر میں کچھ ورزش سے اپنے دن کو بہتر بناسکتی ہیں
پاکستان سمیت دنیا بھر کی خواتین مصروف زندگی میں توانائی اور ہمت میں کمی کی شکایت کرتی دکھائی دیتی ہیں اور اس کی وجہ یہ ہے کہ خواتین روزمرہ کے معاملات میں اس قدر الجھ چکی ہیں کہ انہیں اپنی طرف دیکھنے کا وقت ہی نہیں ملتا لیکن دنیا کے مشہور ڈاکٹر روزانہ کی بنیاد پر توانائی سے بھرپور زندگی گزارنے کے یہ مؤثر طریقے بتا رہے ہیں جس کے لیے انہیں اپنے معمولات میں معمولی تبدیلی لانا ہوگی۔
صبح کے معمولات
صبح کے وقت کم ازکم نصف گھنٹہ دھوپ میں گزاریں کیونکہ ایک تو اس سے جسم کو وٹامن ڈی بنانے میں مدد ملتی ہے تو دوسری جانب دماغ ایک ہارمون میلاٹونن کی افزائش روک دیتا ہے جو اندھیرے میں بنتا ہے۔ یہ ہارمون ہمیں سلانے میں مدد کرتا ہے۔ صبح کی دھوپ اس کی افزائش روکتی ہے اور ہمیں چاق و چوبند بنانے میں مدد دیتی ہے۔
اس لیے بیدار ہوتے ہی کھڑکیوں کے پردے ہٹادیں اور صبح کی روشنی اندر آنے دیں۔ کوشش کریں کہ ناشتا بھی دن کی روشنی میں ہو اور اس طرح آپ کی اندرونی جسمانی گھڑی بہتر ہونے لگے گی۔ آپ دن بھر چاق وچوبند رہیں گی اور غنودگی کی شکایت بھی نہیں ہوگی۔ سب سے بڑا فائدہ یہ کہ آپ رات کو پرسکون نیند سو سکیں گی۔ دن میں کئی بار پانی پیئیں اور سکون سے پانی پینے کا وقت نکالیں کیونکہ پانی آپ کو بہت چاق و چوبند رکھتا ہے اور اس کی جگہ کوئی اور مشروب نہیں لے سکتا۔
دوپہر میں ورزش کریں
دوپہر میں دھیرے دھیرے خواتین آپ سست روی کی شکار ہوجاتی ہیں اس کے لیے کوشش کریں کہ کم شدت کی ورزش کرسکیں خواہ وہ ایئروبکس ہو یا کوئی اور جسمانی مشقت۔ جارجیا یونیورسٹی کے ایک چھوٹے سے سروے سے انکشاف ہوا ہے کہ ہفتے میں تین مرتبہ روزانہ 20 منٹ ورزش کرنے والے خواتین میں تھکاوٹ اور سستی 65 فیصد تک کم ہوجاتی ہے۔ اس کےعلاوہ سونے سے قبل چائے اور کافی سے اجتناب کریں ورنہ یہ نیند پر اثرانداز ہوسکتی ہے۔
شام، رات اور نیند
ایک مصروف دن کے بعد نیند بہت ضروری ہے اور اس کے لیے ضروری ہے کہ نیند سے ایک گھنٹے قبل ٹی وی، اسمارٹ فون اور کمپیوٹر وغیرہ بند کردیں۔ اس سے آپ کا دماغ نیند کے لیے تیار ہوگا اور یوں میلاٹونِن بنانا شروع کردیتا ہے۔ سونے کے کمرے میں مکمل اندھیرا رکھیں اور نیند کا شیڈول ضرور بنائیں.
صرف ایک خوراک میں ملیریا کا خاتمہ کرنے والی دوا تیار
صرف ایک خوراک میں ملیریا کا خاتمہ کرنے والی دوا تیار
ایم وی 390048 نامی مرکب سے ایسے ملیریا کا خاتمہ بھی ممکن ہے جس پر عام دوائیں غیر مؤثر ثابت ہوتی ہیں ۔ فوٹو: فائل
کیپ ٹاؤن: ماہرین نے ملیریا کے خلاف ایک مؤثر دوا بنائی ہے جس کی ایک خوراک کو جب دیگر اہم اقدامات کے ساتھ استعمال کیا جائے تو وہ بہت مؤثر ثابت ہوسکتی ہے۔
جرنل آف سائنس ٹرانسلیشنل میڈیسن میں شائع ایک تازہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایک کمپاؤنڈ MMV390048 ملیریا کے طفیلیے (پیراسائٹ) کے تمام مراحل (اسٹیجز) کا خاتمہ کرسکتا ہے۔ یہ مرکب تمام مزاحم اور سخت جان ملیریا کی اقسام کو روکتا ہے، انفیکشن کم کرتا ہے اور اس کے پھیلاؤ کو بھی نہیں ہونے دیتا ہے۔
جنوبی افریقا کی کیپ ٹاؤن یونیورسٹی میں ادویاتی تحقیق سے وابستہ کیلی شیبال نے کہا کہ اس کی پہلی خوراک مریض سے ملیریا دور کرتی ہے اور مرض ہونے سے بچاتی بھی ہے۔
اس دوا کو ابتدائی طور پر بندروں اور چوہوں پر آزمایا گیا ہے اور ایم ایم وی 390048 کے اثرات کا بغور جائزہ لیا گیا، جس سے معلوم ہوا کہ جن کے جسم میں ملیریا کے جراثیم تھے اور ان کے اثرات نمودار نہیں ہوئے تھے اس سے پہلے ہی مرکب نے اس طفیلیے کا خاتمہ کردیا۔ اس کے علاوہ ملیریا کی بعض اقسام کئی دواؤں کو ناکام بنادیتی ہیں لیکن ایم ایم وی390048 نے ایسے ملیریا کا بھی علاج کیا اور اس میں کامیابی ملی، پھر 2017 میں اسے ایتھوپیا پر انسانوں پر آزمایا گیا لیکن اس دوا کو بازار میں آنے پر 6 سے 8 سال لگیں گے۔
ماہِ مقدس اور ہماری ذمہ داریاں
ماہِ مقدس اور ہماری ذمہ داریاں
تمام تاجر جو بڑھ چڑھ کر صدقات اور خیرات دیتے ہیں، اگر وہ اپنا منافع کم کرکے ایک عام صارف کو فائدہ پہنچائیں گے یقین مانیں اُس سے زیادہ دلی سکون ملے گا۔ فوٹو: فائل
ماہِ رمضان کا مقدس مہینہ ہر مسلمان کے لئے اہمیت کا حامل ہے، اس ماہ میں ہر کوئی چاہتا ہے کہ عبادات اور نیکیاں کمائے اور دعا کرتا ہے کہ یااللہ! مجھے بھی اِس ماہِ مبارک کی بابرکت ساعتیں نصیب فرما مگر دوسری جانب یہ مہینہ مجھ جیسے سے بہت سے سفید پوشوں کو تشویش میں بھی مبتلا کر دیتا ہے۔ گو کہ ہمارا عقیدہ ہے کہ رازق صرف وہ وحدہ لاشریک ذات ہے مگر پھر بھی ہمیں ظاہری اسباب کرنے پڑتے ہیں۔ جن صاحبان کی ہرماہ لگی بندھی رقم آتی ہو تو رمضان المبارک کی آمد پر ذرا تشویش میں مبتلا ہو ہی جاتے ہیں، ایک طرف رمضان کے اخراجات اور ساتھ ساتھ عیدالفطر کی تیاری بھی۔ اس لیے بطور مسلمان ہمیں اِس ماہِ مقدس کو تمام مسلمانوں کیلئے سہل اور مفید بنانے کیلئے اپنا کردار ادا کرنا چاہیئے۔
اس ماہِ مقدس کا تقاضہ یہ ہے کہ مسلمان تاجر اشیاء خورد نوش کی قیمتوں میں دیگر مہینوں کے مقابلے میں کمی کریں بجائے اِس کہ کساد بازاری کر کے ماہ رمضان کے آخر میں وہ ہی رقم اپنے ملازمین اور غریبوں میں بانٹ کر یہ بتانے کی کوشش کریں کہ دیکھو ہم کتنے سخی ہیں۔ اِس سے بہتر ہے کہ تاجر حضرات اپنا منافع کم کریں تاکہ اِس بات کا فائدہ ایک عام صارف کو پہنچے۔ یاد رکھیئے اگر آپ کے پاس ما رکیٹ سے ریٹ کم ہوں اور مہنگی اشیاء کے بجائے مناسب اور کم قیمت پراشیاء خورد و نوش کی فراوانی عام ہو تو آپ ہر مسلمان کی دعا میں شامل ہوسکتے ہیں۔
لیکن بدقسمتی سے رمضان کا مقدس مہینہ آتے ہی مہنگائی آسمان کو چھونے لگتی ہے۔ اشیائے ضرورت کی قیمتیں آسمان سے باتیں کرنے لگتی ہیں، اور مجھ جیسے ایک عام آدمی کے لیے اپنی محدود آمدنی میں زندگی کی ضرورتیں پوری کرنا مشکل ہوجاتا ہے، جس کی وجہ سے صرف عام مسلمان ہی نہیں بلکہ وطنِ عزیز میں بسنے والی اقلیتیں بھی متاثر ہوتی ہیں۔ جب کہ اگر دیکھا جائے تو یہ صورتِ حال مسلم معاشرے میں کسی طرح بھی مناسب نہیں، مذہب اسلام رواداری اور حُسن سلوک کا مذہب ہے اور یہ امر ہر حوا لے سے ہی افسوس ناک ہے۔
اس میں ذمہ داری ریاست کی بھی ہے کہ وہ ذخیرہ اندوزی کرنے والوں اور اِس مقدس ماہ میں ناجائز منافع خوروں کے خلاف موثر کارروائی کرے اور جس طرح یورپی ممالک میں کرسمس کے موقع پر ہر حکومت اپنے ملک میں تاجر حضرات کو رعایت دے کر اِس کا فائدہ عام صارف کو پہنچاتی ہے، بالکل اسی طرح وطنِ عزیز کے حکمرانوں کو بھی رمضان پیکج متعارف کروانے کی ضرورت ہے تاکہ عام اشیاء کی قیمتوں کو بڑھنے سے روکا جاسکے اور مصنوعی بحران لاکر قیمتیں بڑھانے والے عناصر کے خلاف موثر اقدامات کئے جاسکیں۔
ہر سال اِس بابت رمضان سے قبل وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی جانب سے اعلانات کئے جاتے رہے ہیں مگر وہ سب صرف زبانی کلامی ہوتے ہیں، عملاً کچھ نہیں ہوتا اور مہنگائی رمضان کے آتے ہی زور و شور سے بڑھنے لگتی ہے۔ اس لئے عملی موثر اقدامات بہرحال ریاست اور حکومت ہی کی ذمہ داری ہے۔
استطاعت رکھنے والے خریداروں کی بھی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اشیاء مہنگے داموں نہ خریدیں اور یہ سوچیں کہ، اگر وہ مہنگے داموں خریدے گے تو اِن کے کم آمدنی والے مسلمان بھائیوں کو بھی اسی نرخ پر وہ سامان خریدنا پڑے گا۔ اگر سب عزم کرلیں کہ وہ مناسب قیمتوں سے بڑھ کر اشیاء کی خریداری نہیں کریں گے تو دکاندار ازخود مجبور ہوں گے کہ مناسب قیمتوں پر چیزوں کو فروخت کریں۔
وہ تمام تاجر جو بڑھ چڑھ کر صدقات اور خیرات دیتے ہیں، اگر وہ اپنا منافع کم کرکے ایک عام صارف کو فائدہ پہنچائیں گے یقین مانیں اُس سے زیادہ دلی سکون ملے گا۔ ضرورت اِس امر کی ہے کہ ہم سب اپنی اپنی ذمہ داری محسوس کریں تو معاشرے میں سدھار لانے اور مثبت سوچ کو پروان چڑھنے میں دیر نہیں لگے گی
کامیابی کے سنہری اصول
کامیابی کے سنہری اصول
یقیناً اکثر حالات موافق نہیں ہوتے، نتائج اُمیدوں کے خلاف نکلتے ہیں مگر یہی صبر، برداشت اور مستقل مزاجی کی منزل ہے۔
کامیابی کا حصول اور زندگی کی خوشیاں حاصل کرنا ہر انسان کی خواہش اور حق ہے، لیکن اِس پُرعزم سفر کیلئے مرحلہ وار کوششوں کا ایک سلسلہ ہے جسے طے کرکے ہی انسان کامیابی کی سند پاتا ہے، ایسے ہی چند بنیادی اصول اور نکات درج میں تحریر کئے جارہے ہیں جو مایوس اور دل برداشتہ انسانوں کیلئے تبدیلی کی بنیاد ثابت ہوسکتے ہیں۔
کامیابی نام ہے خوشی کا
خوش رہنا اور مسکرانا سیکھیے اور شکایات کرنا چھوڑدیں۔ سوچیں کہ آپ کیا چاہتے ہیں اور جو آپ سے پیار کرتے ہیں، وہ کیا چاہتے ہیں؟ اچھی طرح سوچیں اور فیصلہ کریں اور پھر محنت شروع کیجئے۔ کوئی کچھ بھی کہے، کچھ بھی سوچے، حالات کیسے ہی ہوں، محنت کرتے رہیں۔ وقت خود آپ کو کامیاب ثابت کردے گا۔
سکون، آسودگی اور خوشی
کچھ لوگ پیسے کے حصول کو کامیابی سمجھتے ہیں تو کچھ روحانی معاملات کو، حالانکہ کامیابی اِن دونوں کے میزان کا نام ہے۔ اِس اہم نکتے کو سمجھیے۔
کامیابی کا راز، آپ کا اپنا رویہ
یاد رکھیے، کوئی شخص اُس وقت تک ظاہری کامیابی حاصل نہیں کرسکتا، جب تک وہ ذہنی کامیابی حاصل نہیں کرلیتا۔ کامیاب ہونے کا یقین کامیابی کی جانب پہلا اور لازمی قدم ہے۔ آپ کا رویہ آپ کا راہنما ہے۔
سیکھنا، سمجھنا، لکھنا، علم کی بنیاد ہے
رویے کے بعد علم کامیابی کی کنجی ہے۔ کسی بھی کام پر دسترس اُسی وقت حاصل کی جا سکتی ہے، جب اُس کے بارے میں مکمل علم ہو۔ علم کا حصول ممکن ہے سیکھنے سے۔ کسی دوسرے کے تجربے سے فائدہ اُٹھانا اور اُسے سننا بھی ایک طرح سے سیکھنا ہے۔ لکھنے یا بیان کرنے سے علم مزید پختہ ہوجاتا ہے۔
رحمت، محنت، کامیابی
یقیناً اکثر حالات موافق نہیں ہوتے، نتائج اُمیدوں کے خلاف نکلتے ہیں مگر یہی صبر، برداشت اور مستقل مزاجی کی منزل ہے۔ محنت اِس منزل پر رکتی نہیں آگے بڑھتی ہے اور جو بڑھ گیا، وہ کامیاب ہوا۔
ناکامیاں، کامیابی کا زینہ ہیں
اکثر افراد ناکامیوں سے ڈر جاتے ہیں، پیچھے ہٹ جاتے ہیں یا راستہ بدل لیتے ہیں۔ یاد رکھیں، ناکامیاں، کامیابیوں کی بنیاد ہیں۔ اِن سے سیکھیں، معاملات و عادات کو صحیح کیجئے اور آگے بڑھیں۔
جہدِ مسلسل، کامیابی
کامیابی پر خوش ہونا اچھی بات ہے بلکہ خوشی ہی کامیابی ہے، مگر کامیابی کو حتمی سمجھنا غفلت اور بے وقوفی ہے۔ زندگی جہدِ مسلسل ہے، یہ نام ہے کامیابیوں اور ناکامیوں کے سلسلے کا اور اِس اصول کو فراموش مت کیجئے۔
اُٹھو، کامیابی کے لئے
سوچنا اچھی بات ہے۔ سوچ سمجھ کر فیصلہ کرنا بہت اچھی بات مگر بہت زیادہ سوچنا فیصلوں کو کمزور کردیتا ہے۔ وقت ضائع کرنے سے بہترہے، کر گزرو۔ نتیجے میں جیت جاؤ گے یا سیکھ جاؤ گے۔
کامیاب انسان، روشن ستارے
کامیاب انسان، روشن ستاروں کی طرح ہوتے ہیں۔ جن کی روشنی سے ہزاروں دلوں میں اُمید کی کرنیں پیدا ہوتی ہیں۔ اِس لئے کامیاب انسانوں سے سیکھئے اور اگر ممکن ہے تو اُن کی صحبت اختیار کیجئے۔
کیا ’جائیداد‘ کے لیے اولاد ایسا بھی کرسکتی ہے؟
کیا ’جائیداد‘ کے لیے اولاد ایسا بھی کرسکتی ہے؟
جیل سے واپسی پر نواز مکمل طور پر تباہ ہوچکا تھا۔ اُس کے پاس کھانے کے لئے دو وقت کی روٹی نہیں تھی۔ مجبوراً اُس نے ٹرک ڈرائیور کی نوکری کرلی اور آج وہ ٹرک پر مٹی اور اینٹیں ڈھوتا ہے۔
چوہدری نواز سے یہ میری پہلی ملاقات تھی اور شاید آخری بھی۔ وہ اُس دن کے بعد مجھے نہیں ملا اور نہ میں نے اُسے ڈھونڈنے کی کوشش کی لیکن اُس کی کہانی مرتے دم تک میری دماغ کی رگوں میں گھومتی رہے گی اور مجھے ماں کی محبت اور اُس کے وجود کی اہمیت کا احساس دلاتی رہے گی۔ اب میں چوہدری نواز کی کہانی کی طرف آتا ہوں۔
26 اپریل 2009ء کی شام ماں کٹہرے میں کھڑی تھی اور چوہدری نواز اُسے اس کے گناہ بتا رہا تھا۔ امتیاز نے آج پھر گھر میں عدالت لگالی تھی اور خود کو منصف اور ماں کو ملزم نامزد کردیا تھا۔ ماں پر نواز کو خاندانی جائیداد نہ دینے کا الزام تھا۔ نواز نے پہلے ماں کو ظالم، جھوٹی، مکار، خود غرض، لالچی اور قابل نفرت ہونے کا سرٹیفیکیٹ دیا۔ اُسے بازو سے گھسیٹ کر کمرے سے باہر لایا اور دھکا دے کر گھر سے باہرنکال دیا۔ ماں سڑک پر اوندھے منہ گرگئی تھی۔ اُس کا ڈوپٹہ سر سے اتر چکا تھا۔ قمیض پھٹ چکی تھی اور عینک راہ گیروں کے پیروں تلے کچلی جا چکی تھی۔ نواز یہ منظر دیکھ رہا تھا لیکن اُسے اپنی جنت کی بے حرمتی کا ذرا بھی ملال نہیں تھا۔ وہ آج بدبختی اور بدنصیبی کی معراج کو چھو رہا تھا۔ محلے داروں نے نواز کو سمجھانے کی کوشش کی لیکن بدقسمتی اُس کے دروازے پر دستک دے چکی تھی۔ اُس نے ماں کو گھر پر رکھنے سے انکار کردیا اور شرط عائد کی کہہ پہلے یہ آبائی زرعی زمین میرے نام کرے پھر وہ اُس گھر میں آسکتی ہے۔
نواز اِس سے پہلے پندرہ سو ایکڑ زمین اِسی طرح ماں پر ظلم کرکے اپنے نام کروا چکا تھا۔ یہ آخری زمین کا ٹکڑا اُس کی ماں کا آخری سہارا تھا، اور اِسی کی آمدن سے ماں روکھا سوکھا گزر اوقات کر رہی تھی۔ چناچہ ماں نے زمین کا آخری ٹکرا بیٹے کو نہ دینے اور اپنی بیٹی کے گھر رہنے کا فیصلہ کرلیا۔ بیٹی غریب تھی، لیکن ماں کی عزت اور توقیر سے واقف تھی۔ اُس نے دن رات ماں کی خدمت کی اور چند ماہ میں اُس کے گھر کے حالات بدل گئے۔ اُس کے شوہر کی ترقی ہوگئی اور اُنہیں کمپنی کی طرف سے نیا گھر بھی مل گیا۔ بیٹی بہت خوش تھی لیکن ماں ابھی تک بیٹے کی جدائی کا غم نہیں بھولی تھی۔ اتنے ظلم سہنے کے بعد بھی وہ آج اپنے بیٹے کے پاس جانا چاہتی تھی، اس کی ترقی کی دُعایں کرتی اور ہر آنے جانے والے سے اپنے بیٹے کی خیریت دریافت کئے بغیر نہیں رہ سکتی تھی۔ لیکن بیٹا ماں کو ساتھ رکھنے کو تیار نہیں تھا۔
وقت گزرتا گیا اور ماں اچانک بیمار ہوگئی۔ بیٹے کو اطلاع دی گئی لیکن بیٹے نے ماں سے ملنے سے انکار کردیا۔ ماں مرنے سے پہلے بیٹے کو دیکھنا چاہتی تھی لیکن اُس کی یہ خواہش پوری نہ ہوسکی اور یوں وہ بیٹے کو دیکھے بغیر ہی دنیا سے رخصت ہوگئی۔ بہن نے فون پر نواز کو اطلاع دی کہ ہماری ماں مرگئی ہے۔ عصر کی نماز کے بعد جنازہ ہے تم آجاؤ۔ اپنی ماں کو آخری مرتبہ دیکھ لو۔ نواز نے جواب دیا کس کی ماں اور کیسی ماں۔ میری ماں تو اُسی دن مرگئی تھی جب اُس نے مجھے جائیداد دینے سے انکار کیا تھا۔ جو آج مری ہے وہ تمہاری ماں ہے میری نہیں۔ چناچہ جس بیٹے کی پیدائش کے لیے ماں نے گاوں کے ہر دربار میں منتیں مانی تھیں چڑھاوے چڑھائے تھے، پورے گاوں میں موتی چور کے لڈو بانٹے تھے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ جسے ماں اپنے بڑھاپے کا واحد سہارا سمجھتی تھی آج وہ بیٹا زمین کے ایک ٹکڑے کی وجہ سے ماں کے جنازے کو کندھا دینا تو دور وہ مری ہوئی ماں کی شکل بھی دیکھنا نہیں چاہتا تھا۔
چناچہ ماں کو عصر کی نماز کے بعد دفنا دیا گیا۔ لیکن ماں کے دنیا سے جاتے ہی نحوست کی دیوی نے نواز کے گھر کا راستہ دیکھ لیا۔ نوازنے گاڑیوں کا کاروبار شروع کیا تو پارٹنر ساری رقم لے کر دبئی فرار ہوگیا۔ پراپرٹی میں پیسے لگائے تو وہ پلاٹ پہلے سے تین جگہ بک چکا تھا۔ رینٹ اے کار کا کاروبار شروع کیا تو گاڑی خودکش حملے میں استعمال ہونے کے الزام میں دہشت گردی کے پرچے میں جیل چلا گیا۔ جیل سے رہائی کیلئے کوئی آسرا نہیں تھا۔ گھر بیچا وکیلوں اور ججوں کو پیسہ کھلایا اور تین ماہ بعد جیل سے رہا ہوگیا۔ اِس دوران اُس کی بیوی نے اُس کے چاروں بچوں کو یتیم خانے داخل کروا دیا اور عدالت میں خلاء کی درخواست دے کر طلاق لے لی۔
جیل سے واپسی پر نواز مکمل طور پر تباہ ہوچکا تھا۔ اُس کے پاس کھانے کے لئے دو وقت کی روٹی نہیں تھی۔ مجبوراً اُس نے ٹرک ڈرائیور کی نوکری کرلی اور آج وہ ٹرک پر مٹی اور اینٹیں ڈھوتا ہے اور اپنی اِس حالت کا ذمہ دار ماں کے ساتھ کی گئی زیادتیوں کو ٹھراتا ہے۔ چوہدری نواز کی کہانی ختم ہوچکی تھی۔ وہ ماں کی قبر کے ساتھ ٹیک لگا کر بیٹھا تھا۔ شام ڈھل رہی تھی۔ موذن آذان دے رہا تھا۔ پرندے موذن کی آواز کے اتار اور چڑھاو کے ساتھ پرواز کر رہے تھے لیکن ماں کی نافرمانی کے پچھتاوے کا غم نواز کے دماغ کی نسوں کوچیرتا ہوا اُس کی آنکھوں میں اُتر رہا تھا اور آنسووں کی جھری بن کر اُس کے چہرے پر بہہ رہا تھا۔ وہ ہچکیوں کے ساتھ رو رہا تھا اور لڑکھتی آواز کے ساتھ کہہ رہا تھا کہ ماں کی نافرمانی کا نتیجہ دنیا میں ذلت ناکامیوں اور پچھتاوے کے سوا کچھ بھی نہیں ہے۔
مجھے جب جب چوہدری نواز کی کہانی یاد آتی ہے میری روح کانپ اٹھتی ہے، میرے رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں اور میری آنکھیں شدت غم سے بھر آتی ہیں۔ میں اپنی ماں کے قدموں میں جاکر بیٹھ جاتا ہوں۔ مجھے اُس وقت ماں کی صحبت دنیا کی تمام نعمتوں سے افضل محسوس ہوتی ہے اور مجھے یقین ہوجاتا ہے کہ میں اِس احساس کی قیمت ساری زندگی ماں کی خدمت کرکے بھی ادا نہیں کرسکتا۔ میری دعا ہے کہ میں جب تک زندہ رہوں اپنی ماں کے قدموں کے سائے میں رہوں، میری ذات سے انہیں کبھی کوئی تکلیف نہ پہنچے۔ وہ ہمیشہ مجھ سے راضی رہیں۔ میں اُن کی آنکھوں کی ٹھنڈک اور دل کا سکون بن سکوں، انہیں جب بھی میری ضرورت پڑے میں اُن کی خدمت میں حاضر ہوسکوں اور اُن کی دعائیں ہمیشہ میری حفاظت کرتی رہیں۔
وہ بولتی کچھ بھی نہیں
وہ بولتی کچھ بھی نہیں

خود کو پردوں میں چھپاتی ہے۔
’’وہ بولتی کچھ بھی نہیں
ہنستی مسکراتی ہے
نہ اب کِھلکھلاتی ہے
وہ گھر سے باہر جاتے ہوئے
ڈر ڈر سی جاتی ہے
خود کو پردوں میں چھپاتی ہے
وہ بولتی کچھ بھی نہیں
سُنا ہے
کسی اعلیٰ گھرانے کے
کسی اچھے عہدے کے
لڑکے نے
اُسے مسل ڈالا تھا
انصاف کی عدالت میں
کچھ نوٹوں کے بدلے میں
انصاف کچل ڈالا تھا
اُس کے مجبور بابا نے
باقی بیٹیوں کی خاطر
مجرم معاف کردیا تھا
تب ہی سے
وہ بولتی کچھ بھی نہیں
بس آنسو بہاتی ہے‘‘
وادی حراموش، ناقابلِ فراموش
بلند پہارڑوں سے گرتے آبشاروں کی سریلی آوازیں گویا بانسری کی دھنیں ہیں جسے سنتے ہی انسان کی ذہنی تھکان دور ہوجاتی ہے۔ فوٹو: بلاگر
وادی ’’کٹوال حراموش‘‘ پاکستان کی خوبصورت ترین وادیوں میں سے ایک ہے، جو گلگت کے شمال میں تقریبا 80 کلومیٹر کی مسافت پر واقع ہے. اِس کی کُل آبادی تقریباً 3000 نفوس پر مشتمل ہے۔ یہاں کے لوگ بہت ہی سادہ، خوش مزاج اور مہمان نواز ہیں۔
زیادہ تر افراد زراعت اور مال مویشی کے شعبے سے وابستہ ہیں۔ کسی بھی ترقی یافتہ معاشرے کی طرح یہاں کے لوگ بھی اجتماعی کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں اور بہت سارے اجتماعی کام اپنی مدد آپ کے تحت کرتے ہیں، جن میں سے ایک نمایاں کام بجلی گھر کی تعمیر ہے، جس کو گاؤں کے ٹرافی ہنٹنگ فنڈز سے بنایا گیا ہے۔
اگراِس وادی کی فطرتی خوبصورتی کی بات کی جائے توسر سبز وادی کٹوال اللہ تعالیٰ کے تخلیق کردہ خوبصورت ترین شاہکاروں میں سے ایک ہے۔ یہاں دنیا کے مشہور پہاڑ واقع ہیں۔
جن میں بیلچھار دوبانی (6134m)، حراموش پیک ون(7400m)، حراموش پیک ٹو(6666)، لیلیٰ پیک(6986) اور دیگر بھی کئی پہاڑ شامل ہیں۔ جب کہ یہاں مارخور بھی کی اقسام بھی پائی جاتی ہیں، جن کا شکار حکومت گلگت بلتستان سے اجازت نامہ لے کر کیا جاسکتا ہے۔
پہاڑوں کے سینے میں واقع یہ حسین اور دلکش وادی اپنی مثال آپ ہے۔ حراموش میں وادی کٹوال دل کی سی حیثیت رکھتی ہے۔ اِس وادی کو دیکھ کر پاکستان کے نامور ناول نگار اور مصنف جناب مستنصر حسین تارڈ صاحب نے کہا تھا،
وہ اسی عنوان سے ایک کتاب بھی لکھ رہے ہیں اور انہوں نے اِس وادی کو پاکستان کی خوبصورت ترین وادی قرار دیا ہے۔ اس کی ایک وجہ وادی میں مہمانوں کو خوش آمد کہنے کے نرالے انداز ہیں۔ جیسے ہی کوئی وادی کا رخ کرتا ہے پھلوں کے خوشبوں سے یہ وادی اُس کا استقبال کرتی ہے۔ لہلہاتے درخت جھومںا شروع کرتے ہیں، بلند و بالا پہاڑ آپ کو تکتے ہی خوش آمدید کہتے ہیں اور کہیں گماں ہوتا ہے پہاڑ بھی انگڑائی لیتے ہیں جس سے اُن کی اوڑھائی گئی سفید برفیلی چادر سرکتی ہے تو قوس قزح بھی نظرآتی ہے۔
برف یوں بکھرتی ہے جیسے چیری کے پھول چیری کے درخت سے گرتے ہیں۔ بلند پہارڑوں سے گرتے آبشاروں کی سریلی آوازیں گویا بانسری کی دھنیں ہیں جسے سنتے ہی انسان کی ذہنی تھکان دور ہوجاتی ہے اور راستے میں جابجا بہتے چشمے ہر آنے والے کے لئے آبِ شفا کی سبیلیں لگائے بیٹھے ہیں جس کے چند قطرے گلے سے اترتے ہی انسان ہر دکھ درد بھول جاتا ہے۔
وادی کی دل لبھانے والی چمکتی شفاف جھیلیں، ہرے میدان اور ان میں اُگے ہوئے مختلف قسم کے پھول جو آنے والے کے قدموں میں گرتے جاتے ہیں۔ رنگ برنگے مور، چکور اور چڑیوں کی چہچہانے کی آوازیں، بھیڑوں کے ریوڑ، بکریوں کے پھرتیلے بچے جو آپ کو دیکھتے ہی آپ کی جانب لپک آتے ہیں۔
ان سب کو دیکھ کر آپ کو گماں ہوتا ہے کہ زمین ایسی حسین ہے تو جنت کا عالم کیا ہوگا؟ لیکن بدقسمتی سے حکومت کی عدم تشہیر اور کم توجہ کی وجہ سے سیاحوں کی نظروں سے اوجھل ہے۔ اگر حکومت تھوڑی سی بھی توجہ دے تویہ وادی پاکستان کی نہ صرف پہچان بن سکتی ہے بلکہ مقامی افراد کو روزگار کے بہترین مواقع بھی میسر آسکتے ہیں۔
’’دنیا میری جیب میں۔۔۔۔ لیکن‘‘
’’دنیا میری جیب میں۔۔۔۔ لیکن‘‘
یہ تحریر جو اِس وقت آپ پڑھ رہے ہیں، یہ بھی تنہائی کی آگ میں جل کر آپ تک پہنچی ہے۔ فوٹو : فائل
جب کہنے کو کچھ نیا نہ ہو، جب کوئی نیا کام نگاہ میں نہ سماتا ہو۔ جب کوئی بات دِل میں نہ اُترتی ہو۔ جب اندر اور باہر کے سب موسم بے رنگ وبو کے ہورہے ہوں، تو تنہائی، آدمی کو اپنی جانِب بُلاتی ہے اور مکالمے پر اُکساتی ہے۔ یہ دور سب پر آتا ہے اور اکثر آتا ہے۔
زیادہ تر لوگ، زیادہ دیر تک تنہائی کی تپش برداشت نہیں کرپاتے اور اُلٹے قدموں، لوگوں، باتوں اور محفلوں کی طرف پلٹ آتے ہیں۔ مگر جو آشفتہ سر ہوتے ہیں۔ وہ آتش تنہائی میں خود کو ڈال دیتے ہیں اور ہر طرح کے موسم اور ہر طرح کی دِلی کیفیت سے آزاد ہوجاتے ہیں۔ اُن کو پرواہ نہیں ہوتی کہ جل جانے کے بعد اُن کی خاک کِس رنگ کی ہوگی۔ کِس راہ پر سجے گی۔ کِس ہوا کی نذر ہوگی۔ کِس منظر میں کِس شکل میں ڈھلے گی۔
تنہائی کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر، دو بدو باتیں کرنے والے، جل کر راکھ ہوجانے والے من پسند نتیجے اور انعام کی خواہش سے بھی آزاد ہوتے ہیں اور اپنے آس پاس کے لوگوں کی رائے اور پسند نا پسند سے بھی بے نیاز ہوتے ہیں۔ تنہائی سے محبت کرنے والے، پھر خود کو کبھی بھی، کہیں بھی تنہا محسوس نہیں کرتے، بل کہ ایسے مشاغل اور مصروفیات ڈھونڈلیتے ہیں، جو تنہائی میں اُن کے قلب، روح اور ذہن کو مسرور اور مطمئن رکھ سکیں۔
ایسے من پسند مشاغل اور مصروفیات قدم قدم پر بکھری ہوتی ہیں۔ لیکن چوںکہ یہ کسی shelf یا الماری میں سجے سامان کی طرح کِسی ایک جگہ For Sale یا ’کرائے کے لیے دست یاب ہیں ‘ کے بورڈ کے ساتھ نہیں ہوتے، اِس لیے عام طور پر نگاہوں سے اوجھل ہی رہتے ہیں۔
یہ تحریر جو اِس وقت آپ پڑھ رہے ہیں، یہ بھی تنہائی کی آگ میں جل کر آپ تک پہنچی ہے۔ بالکل یاد نہیں کہ کتنے ماہ پہلے اِس کا آغاز کیا تھا، کہ تاریخ نہیں لکھ پایا تھا، اور چوںکہ تحریر کی ابتدا کِسی وقتِ خاص کی قید سے آزاد تھی، تو آج کی تاریخ نہیں ڈالی، کہ کچھ مشغلے کچھ تحریریں کچھ تنہائی میں کی جانے والی دِل کی باتیں وقت کی حدود سے باہر بھی ہونی چاہییں۔
نیا قلم کل مجھے رضوان نے تحفے میں دیا۔ دو سال بعد اُس سے ملاقات ہوئی۔ کئی سالوں کے وقفے سے۔ جب بھی وہ میرے پاس آتا ہے تو میری کم زوری کو ساتھ لاتا ہے، یعنی فاؤنٹین پین۔ گھنٹے سے زیادہ دیر کی ملاقات میں جتنی بھی باتیں ہوئیں، رضوان کے اندر کی اُداسی جھلکتی رہی۔ لیکن جونہی میں نے اُس کی ’کم زوری‘ اُس کے تنہائی کے خاص الخاص مشغلے کا ذِکر شروع کیا، اُس کے چہرے اور اُس کی باتوں میں چمک آگئی۔ اور ہم کافی دیر تک اُس روشنی میں بھیگتے رہے۔
رضوان کا شوق سالوں پُرانا ہے۔ اُسے جانوروں سے محبت ہے۔ وہ ہر سال، پورے سال بکرے پالتا ہے اور عیدالاضحی پر اپنے ہاتھ سے ذبیحہ کردیتا ہے۔ پہلے تو وہ اپنے گھر میں ہی اپنے شوق کی تسکین کرتا تھا۔ اِس بار پتا چلا کہ اُس نے ایک دوست کے فارم ہاؤس پر بکروں کے ساتھ دو تین گائیں بھی پالی ہوئی ہیں۔ ہر اتوار، علی الصبح وہ اپنے بچوں کو لے کر اپنے جانوروں کے پاس چلا جاتا ہے اور اُن کے ساتھ چار چھے گھنٹے گزار کر پورے ہفتے کی توانائی لے کر واپس آتا ہے۔
’’اور سر! گاڑی میں گھر سے باہر پارک کرتا ہوں۔ پارکنگ کی جگہ پر گھر میں، میں نے آپ کے کمرے سے بڑا ایک پنجرہ بنوادیا ہے اور اُس میں ماشاء اللہ آج کل سات بِلّی کے بچے رہتے ہیں۔ آفس سے واپس آکر دو تین گھنٹوں کے لیے اُن کو کھولتا ہوں۔ باہر ابھی اِس لیے نہیں چھوڑتا کہ پھر کُتّے اُن کو نہیں چھوڑیں گے۔ ذرا اور بڑے ہوجائیں تو آزاد کردوں گا۔‘‘
یہ سب بتاتے ہوئے رضوان کی آنکھیں خوشی سے جگمگارہی تھیں۔ ’’کیا کِسی خاص بلّی کے بچے ہیں؟ Percian ؟‘‘ میں نے پوچھا۔ ’’نہیں سر! عام گھروں میں پھرنے والی ایک بلّی ہے۔ اُس نے ہمارے گھر میں بچے دیے تو میں نے اُن کے لیے پنجرہ بنوادیا۔ روز صبح مرغی کا صاف گوشت چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں کی شکل میں قصائی گھر پر لے آتا ہے۔ وائف اُن کو ابال کر بلونگڑوں کو کھلاتی ہیں۔ دوپہر میں دودھ اور روٹی اور رات میں پھر گوشت۔ بچّے اُن بچوں کے ساتھ مگن رہتے ہیں اور میری تھکن بھی کم ہوجاتی ہے، اُن کے ساتھ۔‘‘
رضوان اپنی تھکن کم کرنے اور اپنی توانائی کی چارج کرنے کے اپنے ذرائع بتارہا تھا۔ اُس کی خوشی میں، میں بھی خوش ہورہا تھا۔ میری تھکن دور ہورہی تھی اور مجھے توانائی مل رہی تھی۔
آج رات کے اِس پہر جب سب سورہے ہیں، مجھے یہ تحریر لکھتے ہوئے بھی اپنے اندر توانائی محسوس ہورہی ہے، کہ میری تنہائی کے ان گنت مشاغل میں سے لکھنا اور وہ بھی فاؤنٹین پین سے لکھنا، ایک ایسی Activity ہے جس نے مجھے ہمیشہ قلب وروح کی توانائی سے نوازا ہے۔
ضروری نہیں کہ آپ کی دل چسپی کا محور بھی رضوان کے شوق کی طرح جانور ہوں یا میری طرح آپ بھی لوگوں کے مسئلے حل کرنے اور پھر راتوں کی تنہائیوں میں کاغذ وقلم سے مکالمے کرکے اپنی انرجی چارج کرتے ہوں۔
ہر فرد کی دل چسپیوں کا دائرہ مختلف ہوتا ہے۔ کچھ شوق کچھ مشغلے ہماری تھکن کو دور کرتے ہیں اور ہمارے روحانی ونفسیاتی ہیولے کو ہلکا پُھلکا بنا تے ہیں۔ اور کچھ مشاغل ہمارے قلب و اعصاب پر بوجھ ڈالنے کا باعث بن جاتے ہیں۔ اِس حوالے سے ہمیں اپنے دِل کی آواز سننے کے ساتھ ساتھ اپنے فہم اور اپنی دانش کو بھی استعمال کرنے کی ضرورت ہے۔
شوق اور مشاغل کئی طرح کے ہوتے ہیں۔ کچھ ایسے جو خالصتاً ہماری ذاتی سوچ سے ہم آہنگ ہوتے ہیں اور اُن میں دِل لگانے کے لی ہمیں کِسی اور کی ضرورت نہیں پڑتی، جب کہ دیگر دل چسپیوں اور مشغلوں کے لیے ہم خیال دوستوں یا لوگوں کی موجودگی ضروری ہوتی ہے۔ تاش ہم اکیلے بھی کھیل سکتے ہیں اور چار سے چھے افراد بھی اِس کھیل میں شامل ہوسکتے ہیں۔ شطرنج کے لیے ایک ذہن مخالف کی ضرورت پڑتی ہے۔ سوئمنگ ہم اکیلے کرتے ہیں لیکن Tennis کے لیے پارٹنر کی ضرورت ہوتی ہے۔ کرکٹ، ہاکی اور فٹبال کیلئے بہت سے ساتھیوں کا ہونا ضروری ہے۔
وہ زمانے پُرانے ہوگئے جب مشاغل کی فہرست میں ہر مُلک کے ڈاک ٹکٹ اور پُرانے سکّے جمع کرنا بھی شامل تھا۔ آج کل کے نوجوانوں نے شاید ہی ڈاک ٹکٹ اور پُرانے سکّے دیکھے ہوں۔ ہر عہد اپنے ساتھ اپنے وقت کے مشغلے لاتا ہے۔ آج کا الم ناک مشغلہ اسمارٹ فون اور اُس سے منسلک ہزار طرح ہزار رنگ کے پروگرامز اور ایپس ہیں۔ عمومی نقطۂ نگاہ سے اِس مشغلے نے ہمارے اندر کی تنہائی کو ریچارج کرنے کا آسان وسیلہ فراہم کردیا ہے۔
1982 میں جیمزہیڈلے چیز کا ایک ناول پڑھا تھا۔ اُس ناول کا عنوان آج واقعی عملی شکل میں ڈھل چکا ہے ’’The World in my Pocket‘‘۔ ہم دنیا میں رہتے ہوئے بھی رشتوں ناتوں سے بیگانے ہوچکے ہیں اور ہر چیز سے بے نیاز ہوجانے کے باوجود اسمارٹ فون کی بدولت روز نت نئی دنیاؤں سے آگاہ بھی ہورہے ہیں۔
آج کے دور کے مشغلے نے بظاہر ہماری تنہائی کو ختم کردیا ہے، لیکن اِس مشغلے نے انسان کی روح کی جڑوں کو کھوکھلا اور کم زور کردیا ہے۔ اور انسان کا دوسرے اِنسانوں کے ساتھ حقیقی تعلق قائم رکھنے کی بجائے اُسے وقتی Likes, Coments, Share کی عادت میں اُلجھا دیا ہے۔ انسان کے دوسرے انسانوں کے ساتھ اِس Virtual تعلق نے اُس کی تنہائی تو مٹادی ہے لیکن اُس کے اندر سے انسانیت کے بنیادی اوصاف کا صفایا کرڈالا ہے۔ ہزار Likes اور پانچ سو Comments کے بعد اب ہر فرد خود کو دنیا کا سب سے عالم فاضل، طاقت ور، مال دار لیڈر سمجھنے لگا ہے۔ باتوں کی بنیاد کو سمجھے بِناتعریف یا تنقید اور بحث میں اُلجھنے لگا ہے۔
ہر دو صورتوں میں اُس کے خون میں CORTISOLاور ENDORPHINS کی نامناسب تعداد میں اضافہ ہورہا ہے۔ اور اُس کی صحت، شخصیت اور نفسیات، طاقت وتقویت پانے کی بجائے مختلف النّوع بیماریوں کیے لیے دروازے کھول رہی ہیں۔ مشغلہ وہی اچھا ہوتا ہے جو Healthy اور Productive اور Relaxing ہو۔ جِس میں جسمانی توجہ اور توانائی خرچ کرکے ہمیں روحانی، نفسیاتی اور قلبی سکون، راحت اور طاقت مِل رہی ہو اور ہماری زندگی میں آرام اور اطمینان پیدا ہورہا ہو۔
ہر ایسا مشغلہ نیا ہویا پُرانا، پُرانے وقتوں کا ہو یا نئے عہد کا، ہمارے کاموں کے Stress کو کم کرتا ہے اور ہمارے خون ودماغ میں متحرک ہارمونز کی تعداد کو معتدل اور متناسب رکھتا ہے اور ہمارے لیے خوش گوار زندگی کا ضامن بنتا ہے۔
اب یہ ہماری Choice ہے کہ ہم اپنے دیگر کاموں کی طرح اپنے لیے کِس طرح کے مشغلوں کو منتخب کرتے ہیں۔ ہمارے اندر راحت وفرحت کا احساس بیدار کرنے والے مشغلے یا ہماری رہی سہی توانائی کو Drain Out کر ڈالنے والے مشغلے۔
تحفہ؛ محبت کی علامت، انتخاب کیسے کیا جائے؟
تحفہ؛ محبت کی علامت، انتخاب کیسے کیا جائے؟
درحقیقت تحفے کا انتخاب ایک فن ہے
تحفے دینے سے آپس میں محبت بڑھتی ہے۔ مگر تحفے کا انتخاب کرتے ہوئے اکثر یہ الجھن پیش آتی ہے کہ کیا شے لی جائے۔
بعض اوقات ایسا ہوتا ہے جس کو تحفہ دینا ہو اس کے مزاج ، مرتبے اور رجحان کو مدنظر رکھتے ہوئے کسی چیز کا انتخاب کیا جائے تو جیب اسے خریدنے کی اجازت نہیں دیتی۔ بعض اوقات متعلقہ فرد کی نازک مزاجی کے مطابق چیز کا انتخاب بھی مشکل ہوجاتا ہے۔
درحقیقت تحفے کا انتخاب ایک فن ہے۔ اس سے فریق ثانی کے لیے ہمارے جذبات کا اظہار ہوتا ہے، نیز تحفہ اس کے ذہن میں ہمارا تصور قائم کرنے میں بھی اہم کردار ادا کرتا ہے۔ اس لیے تحفے کا انتخاب سوچ سمجھ کر کیا جانا چاہیے۔ یہ ضروری نہیں کہ مہنگا تحفہ ہی بہترین ہوتا ہے، کم خرچ میں بھی ہم کسی کے دل کو چُھو لینے والا تحفہ منتخب کرسکتے ہیں۔
عمومی طور پر اظہار محبت کے لیے پھولوں سے بہتر کوئی تحفہ نہیں۔ اگر آپ اپنے عزیز کی عیادت کے لیے جا رہے ہیں تو سفید یا ارغوانی پھولوں کا گل دستہ لے جائیں۔ یہ رنگ دراصل جلد صحت یابی اور نیک جذبات کے اظہار کا ذریعہ ہیں۔ اسی طرح سرخ، گلابی اور جامنی پھول اپنے دوست، عزیز اور سہیلی سے دلی وابستگی کے اظہار کا ذریعہ ہیں کہ آپ اس سے محبت کرتے ہیں یا اس کی خوشی میں آپ بھی برابر کے شریک ہیں۔
زرد اور نارنجی پھول شادی و بیاہ کے مواقع پر دلہا دلہن کو پہنائے جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ بہار کی آمد کا اعلان بھی پیلے رنگ کے پھول ہی کرتے ہیں۔ محبت سے دیے گئے پھول اکثر لوگ اپنی کتابوں اور ڈائریوں میں بھی محفوظ کرلیتے ہیں جو وقت کے ساتھ بظاہر تو مرجھا جاتے ہیں مگر اپنے پیار و خلوص کی وجہ سے ہمیشہ مہکتے رہتے ہیں۔
تحفے کے انتخاب کرتے ہوئے اس فرد کے مزاج اور پسند ناپسند کو مدنظر رکھا جانا چاہیے جس کے لیے تحفہ خریدا جارہا ہے۔ اس کی عمر کو بھی ذہن میں رکھا جائے کہ آیا وہ بچہ ہے،آپ کا ہم عمر ہے یا پھر کوئی پختہ عمر کا شخص۔ بچوں کو عموماً کوئی کھلونا، اچھی کہانیوں کی کتب یا اسٹیشنری کی چیزیں مثلاً پینٹنگ کلرز وغیرہ دیے جاسکتے ہیں۔
اپنے ہم عمر فرد کو گھڑی، سیل فون، اس کے مزاج کے مطابق کوئی اچھی سی کتاب (اگر وہ مطالعہ کا شوقین ہے) دی جاسکتی ہے، مگر کتاب کے انتخاب میں اس کی پسند کو ملحوظ رکھیں۔ مثلاً اگر آپ کو شاعری سے قدرے دل چسپی ہے لیکن اس کو شاعری پسند نہ ہو تو شاعری کی کتاب کا تحفہ اس کے لیے بے معنی ہوگا اور وہ اس سے یہ مطلب بھی اخذ کرسکتا ہے کہ آپ اس سے نفرت کرتے ہیں، یا اس کے لیے دل میں بغض رکھتے ہیں اس لیے جان بوجھ کر وہ شے تحفہ دی ہے جو اسے پسند نہیں۔
کچھ لوگ ہاتھ سے بنی ہوئی اشیاء یا دستکاری پسند کرتے ہیں مثلاً پرس، پراندہ، شو پیس، ہاتھوں میں پہننے کے بیلٹ اور کڑے وغیرہ۔ اگر دوست یا عزیز طالب علم ہے تو آپ اس کو ہینڈ بیگ، قلم، فائل، فولڈر وغیرہ بھی پیش کرسکتے ہیں۔
پختہ عمر کے افراد کے لیے ان کے مزاج کے مطابق تحفہ چنیں جیسے سوٹ پیس، ادبی کتاب، عینک کی خوبصورت فریم، قلم، سوئیٹر، واسکٹ وغیرہ۔
کچھ لوگ نفسیاتی طور پر بڑے بڑے ڈبوں والے گفٹ پسند کرتے ہیں۔ ان کی امید پر بھی پورا اترنے کی کوشش کی جاسکتی ہے۔ کوئی بڑا سا گفٹ ان کے لیے منتخب کیجیے جیسے کوئی بڑا گل دان، شوپیس یا پینٹنگ، فوٹو فریم وغیرہ۔
غرض تحفہ دینا اور اس کا انتخاب کرنا دو اہم مرحلے ہیں۔ تحفے کا انتخاب آپ کی شخصیت کا بھی عکاس ہوتا ہے۔ سامنے والا تحفہ وصول کرکے گویا آپ کا ممنون ہوتا ہے اور یہ باہمی تعلقات کو محبت کی ڈور سے مضبوط گرہ لگانے کا ذریعہ بنتا ہے۔
Subscribe to:
Posts (Atom)
-
چار چڑیلیں ایک خوفناک کہانی لیموں گوٹھ قبرستان گلشن اقبال کے خدمت گار انور اسلام نے بتایا کہ یہ قبرستان بہت پرانا ہے اور اس کے حوالے سے...
-
صَلَّى اللهُ تَعَالٰى عَلَيْهِ وَاٰلِهٖ وَسَلَّم مصطفےٰ ﷺ جــــانِ رحمت پہ لاکھوں ســـلام شمع بـزمٍ ھدایت پہ لاکھوں ســـلام ...
-
مجھے مرنا ہے آقا ﷺ گنبدِ خضرا کے سائے میں وطن میں مرگیا تو کیا کرونگا یا رسول اللہ ﷺ مجھے ہریالے گنبد کے تلے قدموں میں موت سلامت...















